Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

میرا کیس مستقبل میں بڑی مثال قائم کرے گا، خدیجہ صدیقی

قاتلانہ حملے کی متاثرہ لڑکی خدیجہ صدیقی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حق میں آنا ان کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ کیس آنے والے وقتوں میں ایک بہت بڑی مثال قائم کرے گا۔

خدیجہ صدیقی کا کہنا ہے کہ ‘تمام معالات کا انحصار آپ کی قوت ارادی پر منحصر ہوتا ہے کیونکہ جب میں نے آواز اٹھائی اور اس آواز سے لوگوں میں شعور بیدار ہوا تو انہوں نے میرا بھرپور ساتھ دیا، اسی طرح کے ہزاروں کیسز ہیں جو دبے ہوئے ہیں اور ان کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں لیکن اس معاملے میں سب سے زیادہ انحصار اس عورت پر ہے کہ جب وہ خود آواز بلند کرے گی تو ہی انصاف ملے گا۔’

ایک سوال کے جواب میں خدیجہ نے کہا کہ ‘جب میں یہ کیس لاہور ہائی کورٹ میں لڑ رہی تھی اور اس کے بعد جو فیصلہ وہاں سے آیا اس نے مجھے شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کردیا تھا، لیکن میں شکر گزار ہوں کہ اس فیصلے کے چند ہی دنوں بعد پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس فیصلے پر ازخود نوٹس لیا اور ان ہی کی وجہ سے آج اس کیس کا فیصلہ میرے حق میں آیا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آج کی سنوائی میں ہی پورا کیس تیزی سے نمٹا دیا، جب کہ وکیل دفاع کی جانب سے پوری کوشش تھی کہ اس کیس کو 2 سے 3 دن مزید آگے بڑھایا جائے، لیکن چیف جسٹس نے مزید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے آج ہی کیس کا فیصلہ سنادیا۔’

قانونی نظام میں بہتری سے متعلق سوال پر خدیجہ نے کہا کہ ‘ہمارے نظام میں اصلاحات کی واقعی ضرورت ہے، خاص طور پر کورٹ میں آنے سے پہلے جو تحقیقات اور پولیس کا کام ہے اس میں قابل اور تجربہ کار لوگوں کو آنا چاہیے تاکہ ٹھوس انداز میں تحقیق اور بہتر کام ہوسکے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کے بعد جب معاملہ عدالت میں لایا جائے تو اس میں متاثرہ شخص پر بیرونی دباؤ ڈالنے اور کیسز کو طویل دورانیہ تک چلانے کے معاملات کو بھی ختم کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔’

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مجرم شاہ حسین کی بریت سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شاہ حسین کی گرفتاری کا حکم دے دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مجرم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔

واضح رہے کہ خدیجہ صدیقی کو ان کے ساتھی طالب علم شاہ حسین نے 3 مئی 2016 کو شملہ ہلز کے قریب اس وقت چھریوں کے وار کرکے زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن کو اسکول سے لینے جارہی تھیں۔

شاہ حسین واقعے کے وقت ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اور اُس نے خدیجہ کے گاڑی میں سوار ہونے سے قبل ہی ان پر حملہ کرتے ہوئے ان پر 23 مرتبہ خنجر کے وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ستمبر 2016 میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کیے جانے کے باوجود 2 ماہ بعد شاہ حسین کو سیشن کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری مل گئی۔

بعد ازاں 29 جولائی 2017 کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے شاہ حسین کو 7 برس کی سزا سنادی تھی تاہم گزشتہ برس مارچ میں سیشن کورٹ نے ان کی اپیل پر سزا کم کرتے ہوئے اسے 5 سال تک کردیا تھا جس پر مجرم نے دوسری اپیل دائر کردی تھی۔

سینئر وکیل کے بیٹے شاہ حسین نے دوسری اپیل سیشن عدالت کے 5 سال قید کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی جس پر 4 جون 2018 کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ ملزم کے حق میں سناتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون 2018 کو سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے قانون کی طالبہ پر چھریوں کے وار کرنے کے مقدمے میں بری ہونے والے ملزم کی رہائی کا ازخود نوٹس لیا تھا۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*