Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔۔۔ وزیراعظم پاکستان

وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے ضلع پلواما میں بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اٹھائیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے‘۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ’ مسئلہ کشمیر ’ تشدد اور قتل ‘ کے ذریعے نہیں بلکہ صرف مذاکرات سے حل ہوسکتا ہے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کشمیر کے ضلع پلواما میں بھارتی فوج نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 7 کشمیری نوجوانوں کو قتل اور 3 درجن سے زائد افراد کو زخمی کردیا تھا ۔

سیاسی اختلافات بھلا کر کشمیر کے لیے متحد ہوجائیں، وزیر خارجہ

اس سے قبل وفاقی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے تمام سیاسی قوتوں اور کشمیری عوام سے درخواست کی کہ وہ مقبوضہ خطے کے معاملے میں اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر متحد ہوجائیں۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا کی ترجیحات میں کشمیر نہیں لیکن دنیا اتنی بے حس اور لاتعلق نہیں ہوسکتی، اگر آپ کو کشمیر کے مسئلے پر آواز اٹھاتے ہوئے دقت ہے تو انسانیت پر آواز اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کل (15 دسمبر کو) 14 کشمیری بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید اور تقریباً 3 سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ نومبر 2018 میں 18 نہتے کشمیریوں کو شہید کیا گیا، 18ماہ کی بچی حبہ نثار آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی وجہ سے سانس نہیں لے پارہی تھیں، ان کی والدہ اپنی جان مشکل میں ڈال کر بچی کی جان بچانے کے لیے اسے گود میں لیے گھر سے نکلی تھیں لیکن پیلٹ گن کا چھرا ان کی دائیں آنکھ میں لگا اور اب وہ اس آنکھ سے کبھی نہیں دیکھ پائیں گی۔

وزیر خارجہ پریس کانفرنس کررہے ہیں، فوٹو ڈان نیوز

وزیر خارجہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ 21 اکتوبر 2018 کو کلگام میں 9 کشمیری نوجوان شہید اور 50 کےقریب زخمی ہوئے، اپریل میں 17 کشمیری نوجوان شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ ایک نوجوان جس نے انڈونیشیا سے ایم بی اے کیا، ان کی 3 ماہ کی بچی ہے اور اب جکارتا میں ان کی بیوہ اور عزیز و اقارب احتجاج کررہے ہیں کہ انہیں کیوں قتل کیوں کیا گیا، ان کا گناہ کیا تھا؟ ان کے خاندان کو اس کی کیا قیمت ادا کرنی ہوگی۔

اسی طرح جہانگیر نامی نوجوان اس وقت شدید زخمی ہیں ان کی حالت تشویشناک ہے۔

وفاقی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ کشمیر میں کل کے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، ہیومن رائٹس کمیشن اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھے ہیں جن میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا فوری نوٹس لینے اور انہیں اس بربریت سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو فون کیا ہے جس میں انہیں کشمیر میں ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ او آئی سی کےسیکریٹری جنرل سے درخواست کی کہ فوری طور پر کانٹیکٹ گروپ کا اجلاس طلب کیا جائے اور پاکستان کانٹیکٹ گروپ کی میزبانی کے لیے تیار ہے، اگر پاکستان میں اجلاس کرانے میں کوئی مشکل ہے تو اجلاس جدہ میں بھی کرایا جاسکتا ہے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*