Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

ڈیموں کی تعمیر: وزیراعظم کی سمندر پار پاکستانیوں سے عطیات کی اپیل

پاکستان کےوزیر اعظم عمران خان نے ڈیمز بنانے کیلئے قوم، خاص طور پر سمندر پار پاکستانیوں سے دل کھول کر عطیات دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے پی ایم۔ سی جے فنڈ برائے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر 80 سے 90 لاکھ بیرون ملک پاکستانی کم از کم ایک ہزار ڈالر فی کس اس فنڈ میں بھیجیں تو ہمارے پاس ڈیم بنانے کے لئے پیسہ جمع ہو جائے گا، زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور ہمیں کسی سے قرضے بھی نہیں مانگنا پڑے گا، یقین دلاتا ہوں کہ وہ قوم کے پیسے کی خود حفاظت کروں گا۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کی شام پانی کی قلت اور ڈیمز کی تعمیر کے خصوصی حوالے سے قوم کے نام اپنے نشریاتی پیغام میں کہی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک کو درپیش تمام مسائل عوام کے سامنے لے کر آئیں گے، اور آگاہ کروں گا کہ ان کے حل کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتے سے معاشی حالات، قرضوں، بجلی کے مسئلہ، گیس کے مسائل اور خارجہ پالیسی پر بریفنگز لے رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے بہت سے چیلنجز ہیں، قرضے چڑھے ہوئے ہیں، 10 سال پہلے پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب تھا جو30 ہزار ارب تک جا پہنچا ہے، گردشی قرضوں کا بھی مسئلہ ہے، توانائی کے مسائل ہیں لیکن میری نظر میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہر پاکستانی کے حصے میں 5 ہزار 6 سو کیوبک میٹر پانی آتا تھاجو آج صرف ایک ہزار کیوبک میٹر فی کس رہ گیا ہے، پاکستان میں پانی کی سٹوریج کی گنجائش صرف 30 دن کی ہے، ہندوستان میں یہ گنجائش 190دن کی ہے، مصر جدھر بارش نہیں ہوتی وہاں ایک ہزار دن کی گنجائش ہے، دنیا سمجھتی ہے کہ ایک ملک کے لیے محفوظ ذخائر کا لیول 120 دن ہے جبکہ ہمارے پاس صرف 30 دن کی پانی کی سٹوریج گنجائش ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہمارے ملک کے لیے ڈیم بنانا ناگزیر ہے۔

ڈیمزفنڈکیلئے رقم سٹیٹ بینک کے اکاونٹ
03-593-299999-001-4
میں جمع کروائی جاسکتی ہے۔ اکاونٹ کیلئے
IBAN:
PK06SBP0035932999990014
ہوگا۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*