Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

سلطنت شریفیہ بچانے کے لیئے کون کون سرگرم؟

شریف خاندان کے دو اہم فرد سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم صفدر کو ایون فیلڈریفرنسز میں سزا یافتہ ہونے کے باعث اڈیالہ جیل پہنچے ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔

دکھایا جا رہا ہے کہ سب کچھ کنڑول میں ہے ،سامنے کی حقیقت مگریہ ہے کہ انیس سو پچاسی سے قطرہ قطرہ نہیں بلکہ بجلی کی رفتار سے ترقی کرنے والی سلطنت شریفیہ پر لرزہ طاری ہے اور اس کے بچاﺅ کے لیئے شریفیہ سلطنت کے حکمران اور ان کے تیارہ کردہ مقامی و بیرونی مہرے ہر قسم کی چالیں چلنے میں مصروف ہیں۔

مشرف سے دس برس کا معاہدہ کر کے جدہ کے سرور پیلس میں زندگی بسر کرنے والا شریف خاندان ایک بار پھر سودے بازی کے چکر میں ہے لیکن بڑا مسلہ یہ ہے کہ سودے بازی اگر ہو بھی گئی تو جائے پناہ کس ملک میں ملے گی۔ سعودی شاید دوبارہ میزبانی کے لیے تیار نہیں، برطانیہ میں بے نامی جائیدادوں کی جا بجا پھیلی ہوئی قطاریں آزادانہ گھومنے کی راہ میں حائل ہیں۔ایک ملک رہ جاتا ہے اور وہ ہے بھارت۔

اوروہاں جانے کے لیئے شاید شریف فیملی کو ویزے کی ضرورت بھی نہ پڑے، جیسے مودی اور اس کے ساتھیوں کو نوازشریف کی نواسی کی شادی میں ضروری تقاضے پورے کیئے بغیر رائیونڈ مدعو کیا گیا تھا۔

پاکستان کے دو بڑے میڈیا گروپس سلطنت شریفیہ کو بچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ دنیا پہلی بار دیکھ رہی کہ ان گروپس سے وابستہ صحافی جیل میں بیٹھے مجرموں کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ شائع اور نشر کر رہے ہیں۔

پاکستان بار کونسل سے وابستہ نامی وکلائ،فوج اور عدلیہ مخالف عناصر جن میں مذہبی او ر سیاسی رہنما بھی شامل ہیں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کا بھی کردار سامنے آ رہا ہے۔

سب حقیقتیں اپنی جگہ لیکن ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ شریف خاندان ہاتھ پاﺅں چلاتا رہے گا سلطنت شریفیہ کو بچانے کے لیئے لیکن اس بار اس کا واسطہ کسی مشرف سے نہیں جو اس وقت اپنی غیر آئینی حکومت کے بچاﺅ کے چکر میں تھا ۔ اب تو کسی کو اپنی حکومت کی فکر نہیں۔

فکر ہے تو عدلیہ کو اپنی عزت اور فوج کو اپنی اور قوم کے وقار کی۔

جیل میں آتے ہی میاں نوا ز شریف کو جیل میں بہتر سہولتوں کے لیئے فریاد کرنا پڑگئی ہے۔اب ان کی دل کی بیماری کی کہانیاں بھی سنائی جانے لگی ہیں۔مطلب یہ کہ جیل میں جاتی امرا، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس یا سرور پیلس جیسی سہولیات کیوں نہیں فراہم کی جارہیں؟

عام پاکستانی کا خیال ہے کہ سزائیں ختم کر نے کی” ڈیل“ تو شریف خاندان کو اب مشکل ملے گی لیکن شاید تھوڑی ڈھیل ان کو ملتی رہے جیسے اڈیالہ سے سہالہ کے سفراور قیام کی باتیں ہو رہی ہیں۔

پہلے امریکہ جاتے یا واپسی پر لندن قیام ہوتا تھا ۔ اب اڈیالہ جاتے ہوئے سہالہ قیام کی آرزﺅیں پالی جا رہی ہیں۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*