Main Menu

ہارون بلور شہید والد بشیر بلور کے پہلو میں سپرد خاک

یکہ توت خودکش حملے میں شہید ہونے والے اے این پی رہنما ہارون بلور کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ جبکہ سانحہ کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ،حملے میں شہید ہونے والے اے این پی کے رہنما ہارون بلور کی نماز جنازہ نماز عصر کے بعد پشاور کے وزیر باغ میں ادا کی گئی جس میں اے این پی کارکنان اور رہنماوں کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز جنازہ میں آفتاب شیر پاو، ایمل ولی، امیر حیدر ہوتی، شاہی سید اور ہمایوں خان سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی شریک تھے۔، جبکہ اے این پی کے رہنما اور کارکنان نے بھی جنازے میں بڑی تعداد میں شرکت کی۔ہاورن بلور کا جسد خاکی ان کے آبائی قبرستان پہنچا دیا گیا ہے۔جہاں ہاورن بلور کو اپنے والد کے پہلو میں پیر سید حسین شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا، اس سے قبل 10 شہدا کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کرکے انہیں رحمان بابا قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔علاوہ ازیں لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ نے جاں بحق افراد کی فہرست جاری کردی ہے جس کے مطابق جاں بحق ہونیوالوں میں ہارون بلور کیعلاوہ آصف خان، محمد شعیب، محمد نعیم، یاسین، حاجی محمد گل، نجیب اللہ، عابد اللہ، حذیفہ، عارف حسین، اخترگل، عمران، رضوان ضمیر خان، اسرار، ثمین، صادق اور خان محمد شامل ہیں۔دھماکے کے 54 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا ہے جب کہ 8 زخمی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج ہیں،گزشتہ رات پشاور کے علاقے یکہ توت میں خودکش حملہ آور نے عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں اے این پی امیدوار ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید ہوگئے۔یکہ توت حملے کے بعد بدھ کو شہر کی فضا سوگوار رہی اور انجمن تاجران کے سوگ کے اعلان پر شہر میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہی جس کے باعث چھوٹے بڑے بازار بند رہے۔عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم بھی روک دی ہے۔خیبرپختونخوا بار کونسل نے بھی واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جس کے باعث وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔خود کش حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا ہے، مقدمہ ایس ایچ او تھانہ آغا میر جانی شاہ واجد علی کی مدعی میں درج کیا گیا جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 7 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔پولیس نے پشاور میں سیکیورٹی سخت کردی ہے، شہر میں ناکوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر تلاشی کیبعد لوگوں کو داخلے کی اجازت دی جارہی ہے۔نگران حکومت نے خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جس کا سربراہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی محمد سلیم مروت کو مقرر کیا گیا ہے۔جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی،آئی بی اور اسپیشل برانچ کے نمائندے شامل ہوں گے جب کہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن، ایس پی سی ٹی ڈی اور واقعیکیتفتیشی افسر انسپکٹر حسن خان بھی مشترکہ تحقیقاتی تیم کا حصہ ہوں گے۔ علاوہ ازیں سینیٹ میں پشاور سانحہ کے خلاف قرارادادمتفقہ طور پرمنظورکرلی ،ایوان لواحقین کے غم میں برابر کاشریک ہے ،قراردارمیں نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے سانحہ میں ملوث مجرموں کو پکڑنے اور ملک دشمنوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو توڑے مطالبہ کیاگیا، بلور خاندان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا،سینیٹرز نے پشاور میں اے این پی کے رہنما ہارون بلور کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور سانحہ کی ذمہ دار الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگران حکومت ہے، نیکٹا کی رپورٹ کے باوجود سیکورٹی نہ دینا افسوسناک ہے بلور خاندان قربانی پر قربانی دے رہا ہے ہارون بلور کی شہادت سے پاکستان کا نقصان ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق ،سینیٹر مشاہد حسین سید ، سینیٹر طاہر بزنجو، سینیٹر کلثوم پروین، سینیٹر تہمینہ عابد، سینیٹر نگہت پروین ، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر اعظم موسٰی خیل ، سینیٹر شبلی فراز ، سینیٹر پرویز رشید ، سینیٹر بیرسٹر سیف، سینیٹر رانا مقبول ، سینیٹر مولا بخش چانڈیو، سینیٹر گل بشرہ، سینیٹر چودھری تنویر ، سینیٹر مصدق ملک و دیگر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ الیکشن کونہیں ریاست کو خطرہ ہے ایک دہشتگردی کا خطرہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ہم نے قابو پالیا ہے اور اس کی ذمہ داری سیکورٹی کے ذمہ داروں پر ہے الیکشن سے پہلے ماحول بنایا جا رہا ہے اور اس سے بھی ریاست کو خطرہ ہے اور اس کے دوررس نتائج ہوں گے پنڈی میں لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے اور حراساں کیا جا رہا ہے اور یہ الیکشن کو متنازعہ بنا رہے ہیں اس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو گی نتائج اچھے نہیں ہوں گے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہارون بلور کو سیکورٹی فراہم کرتی 20لوگ شہید ہوئے ہیں اور ان کی جماعت سے اظہار یکجہتی کے لیے قرارداد پیش کر رہا ہوں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان یکہ توت میں اے این پی کی کارنر میٹنگ پر حملے کی مذمت کرتی ہے جس میں 20افراد شہید ہو چکے اور ان شہید ہونیوالوں میں ہارون بلور بھی شامل ہیں جو کہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ 78سے الیکشن لڑ رہے تھے ہارون بلور ایک بہادر باپ شہید بشیر بلور کے بیٹے ہیں جو خود بھی ایک دہشتگرد حملے میں 2012میں شہید ہو گئے تھے یہ ایوان اور پوری پاکستانی قوم ہارون بلور کی شہادت پر ان کے خاندان سے تعزیت کرتی ہے اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہے یہ ایوان نگران حکومت وفاقی اور صوبائی سے مطالبہ کرتی ہے کہ سانحہ میں ملوث مجرموں کو پکڑے اور ملک دشمنوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو توڑے، بلور خاندان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اللہ مرحوم پر رحمت کرے اور لواحقین کو صبر و جمیل عطا کرے قرارداد کی ایک کاپی لواحقین کو بھی بھیجی جائے گی۔ مشاہد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت قومی نقصان ہے ہارون بلور دہشتگردوں کے لیے ہائی ویلیو ٹارگٹ تھے ۔سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت پاکستان، جمہوریت کا نقصان ہے انہوں نے جدوجہد مسلسل کی وہ صرف پاکستان کی بات کرتے تھے صوبائی اور وفاقی حکومت کی ناکامی ہے جسکی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا نگران وزیر کو ایوان میں جواب دینے کے لیے یہاں ہونا چاہیے ایجنسی کو اور باتوں کی خبر ہے تو اس بات کی خبر کیوں نہیں ہوئی ؟ نگران وزیر داخلہ کو ایوان میں ابھی بلایا جائے۔ سینیٹر اعظم موسٰی خیل نے کہا کہ کہنا بھی مشکل اور چُپ رہنا بھی مشکل ہے عوامی نمائندوں کو ہرانا اور ان کو اس دنیا سے آخرت پر بھیجنا دو ایجنڈے ہیں بتایا جائے اس ایجنڈے کو کون چلا رہا ہے ملک میں 31ایجنسیاں ہیں مگراسکے باوجود اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں نیشنل ایکشن پلان کے باوجود حالات خراب ہو رہے ہیں لوگوں کے پسند نہ پسند کی وجہ سے حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں اسمبلیوں میں ان لوگوں کو لایا جا رہا ہے جن میں بات کرنے کی جرات نہیں ۔شبلی فراز نے کہا کہ واقعے کے بعد پورا پشاور افسردہ ہے الیکشن کا ماحول خراب کیا جا رہا ہے امیدواروں کا حق ہے کہ وہ عوام سے رابطہ کریں 2013میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کو الیکشن کے لیے یکساں ماحول نہیں دیا گیا ہم سمجھتے تھے کہ دہشتگردی ختم ہو گئی ہے اور ہم آرام سے الیکشن میں جا سکتے ہیں الیکشن کروانے کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے جن کو سیکورٹی کا خطرہ ہے الیکشن کمیشن ان کو سیکورٹی دے تا کہ الیکشن غیر متنازعہ ہوں۔ پرویز رشید نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت کا واقعہ انفرادی حادثہ نہیں ہے ان واقعات کا تعلق ان پالیسیوں سے ہے جو ہم نے اختیار کی تھیں پاکستان کا معاشرہ پرامن تھا فرقہ واریت سے آزاد معاشرہ تھا احتساب کی لسٹ دہشت گردی کے نظریے کوبھی شامل کیا جائے اس پالیسی سے کیا فائدہ کیا نقصان ہوا ہے فرد کی کوتاہیوں سے انسانوں کو نمک برابر بھی نقصان نہیں پہنچا دہشتگردی کے نظریہ سے پاکستان کو نقصان ہوا ہے دہشتگردی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ناطہ توڑنا ہو گا ان کو مین سٹریمنگ کرنی چاہیے اگر یہ فلسفہ اس وقت بھگتنا پڑا جب بے نظیر ، نواز شریف پر حملہ ہوا ووٹ ڈالنے والے پر نظر رکھنے کے لیے تین لاکھ پچاس ہزار لگ سکتے ہیں اور ان کو سزا دے سکتے ہیں تو چند مٹھی بھر دہشتگردوں جن کی کمر ہم نے توڑ دی ہے جس کا نظام تباہ اور بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے اگر کروڑوں ووٹروں کی حفاطت کی جا سکتی ہے تو اب ان کو کیوں نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ حالات کو سمجھ کر پالیسی بنائیں گے اور عمل کریں گے تو مسئلہ حل ہو گا قوم جنازے اٹھا کر قرض اتار رہی ہے خود کش حملوں پر کوئی ملک کنٹرول نہیں کر سکا توہمارا ملک کس طرح کنٹرول کر سکتا ہے جذبات سے مسائل حل نہیں ہوں گے اگر امیدوار کو دو سو اہلکار دیں گے تو خود کش حملے میں دو سو اہلکار بھی شہید ہو جائیں گے غلط پالیسیوں کی وجہ سے خمیازہ بھگت رہے ہیں اگر الیکشن فری ہوتا تو دھماکے نہیں ہوتے سیکورٹی کے اہلکاروں کا احتساب ہونا چاہیے سیکورٹی دینا ان کا کام ہے۔رانا مقبول نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں نیکٹا نے بتایا تھا کہ سب سے زیادہ خطرہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں کو ہے مگر اس کے باوجود حملہ ہو گیا ہے بلور خاندان قربانی پر قربانی دے رہا ہے حالات جس طرف چل پڑے ہیں الیکشن نہیں کچھ اور ہی ہو گا۔مولانا بخش چانڈیو نے کہا کہ میں ان کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں کسی کو زندگی سے محروم کرنا دہشتگردی ہے ہم سیکھنے کا کہتے ہیں مگر سیکھتے نہیں ہیں اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے سیاسی لوگ بھی اس مسئلے کا شکار ہیں قاتل قاتل ہوتا ہے جس کے ساتھ بھی ہوں قاتلوں کو موقع نہ دیا جائے قاتل خدا کا دشمن ہوتا ہے ادارے ملک میں پسند نہ پسند کے چکر میں ملک کا بیڑا غرق کر رہے ہیں جن کو خطرہ نہیں ہے ان کے ساتھ بیس گاڑیاں اور جن کو خطرہ ہے ان کو سیکورٹی نہیں دی جا رہی ہے سیاسی لوگوں سے سیکورٹی واپس لی گئی۔ گل بشرہ نے مرحومین کے لیے دعا مغفرت کی ۔ چودھری تنویر نے کہا کہ پشاور سانحہ پر پوری قوم غمزدہی ہے ہارون بلور پر حملہ کرنے والے کون لوگ ہیں میٹنگ کے بعد فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا ہے نگران حکومت پر سب سوالیہ نشان لگا رہے ہیں ایک خط کے بعد سب سے سیکورٹی واپس لی گئی لاپرواہی کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئی صرف سیاسی یتیموں کو سیکورٹی نہ دی جائے پاکستان میں دو سیاسی یتیم ہیں ایک عمران خان اور دوسرا شیخ رشید احمد ججوں کو اوپر سے آرڈر دیا جا رہا ہے لال حویلی میں ہمارے کارکنان کی سیٹس بنائی جا رہی ہیں عمران خان وزیر اعظم نہیں بن سکتا ہے نگران وزیر اعظم بنایا جائے ۔ مصدق ملک نے کہا کہ ہم بھٹو، زہری، خانزادہ یا کسی اور خاندان کا رونا روئیں گے تین لاکھ 71ہزار اہلکار الیکشن کی حفاظت کے لیے رکھے گئے ہیں اگر الیکشن لڑنے والے ہی نہیں ہوں گے تو کن کی حفاظت کی جائیگی جنازے سیکورٹی نہ دینے کی قیمت ہیں مقامی حکومتوں کو معطل کر دیا گیا ہے کل کو وہ سینیٹ کو بھی معطل کر دیں گے الیکشن کمیشن والے قانون سے بالاتر ہیں مجسٹریٹ کا اختیار ہم نے ڈی سی سے لی تھی مگر آپ نے صوبیدار کو دے دی ہے






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*