Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

ہمارے جمہوری نظام پر چوروں ، لٹیروں ، وڈھیروں اور ضمیر فروشوں کا قبضہ ہے :شاہد محمود آرائیں

انٹرویو:زاہد حسین مغل


تصاویر : ایم امجد سٹوڈیومانگا منڈی

دوہزار پندرہ میں اپنی سیاسی اننگز کا آغاز کرنے والے شاہد محمود آرائیں اپنے حلقہ احباب میں ایک معتبراورمنفرد مقام کی حامل شخصیت ہیں ۔ زبان و بیان میں مہارت کے باوجود اہل علاقہ کے دکھ اور تکلیف کا ازالہ خاموشی سے کردیتے ہیں ۔ سیاسی و سماجی ورکر کو انتخابات کے دنوںمیں کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا یہ حقائق جاننے کی کوشش کی گئی لیکن اس درویش صفت انسان نے کسی کی ذات پر کیچڑاچھالنے کے بجائے اپنی نہ تجربہ کاری اور کسی سیاسی جماعت سے ٹکٹ نہ ملنے کو اپنی شکست کا باعث قراردیا ۔ مانگا منڈی کے اس قسمت کے اس دھنی تاجراور سیاسی ورکر شاہد محمود آرائیں سے گزشتہ روز نمائندہ سیاست پاکستان سے ملاقات کے دوران پاکستان کے جمہوری نظام ، مقامی سیاست اور متوسط الحال افراد کو درپیش مسائل بارے جو گفتگو ہوئی وہ ہمارے قارئین کی نذر ہے ۔

سیاست پاکستان: آپ یہ بتائیں کہ ہمارے معاشرے کا درمیانہ طبقہ تو اپنی روزی روٹی سے ہی فرصت نہیں پاتا آپ سیاسی اور سماجی کاموں کے لیئے اپنے وقت کو کیسے ترتیب دیتے ہیں ؟

شاہد محمود آرائیں :آپ صحیح کہہ رہے ہیں کہ میرا تعلق معاشرے کے ایک درمیانے طبقہ سے ہے لیکن میں سیاست پاکستان کے توسط سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ”کیا سیاست امیرلوگوں کے گھر کی لونڈی ہے ؟“۔ ہمارے معاشرے میں عوام کو یہ غلط تاثر دے دیا گیا ہے کہ سیاست کا مطلب امارت ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاست کا مطلب عوام کی خدمت ہے جو مظلوموں کے حق میں ظالموں کے سامنے کھڑے ہونے ، غریب کے بچوں کو سکول میں داخل کروانے ، کسی بیمار کی ہسپتال تک رسائی ، کسی بھوکے اور پیاسے کی حاجت دور کرنا بھی خدمت خلق ہے ۔

boss 6

سیاست پاکستان: آپ کے خیالات تو بڑے مدبر سیاستدانوں کی ماند ہیں اس کے باوجود آپ مانگا منڈی کی سیاسی بساط میں اپنی جگہ نہیں بناپائے اس کی کیا وجہ ہے ؟

شاہد محمود آرائیں :ہمارے ملک کو انگریزوں سے آزاد ہوئے 68 سال 8 مہینے سے زائد عرصہ بیت چکا ہے لیکن آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں کو ئی غریب اپنی مرضی سے اپنے امیدوار کی کھلے عام حمایت یا مخالفت نہیں کرسکتا ۔ یہاں سب کو علاقے کے بااثر افراد کے سامنے مصلحت سے کام لینا پڑتا ہے ۔ سب گھر پر آنے والے امیدوار کو یہی کہہ کر خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”بھلا آپ کو یہاں ووٹ مانگنے کی کیا ضرورت یہ تو آپ کا اپنا گھر ہے “۔ جب تک دیہی علاقوں کے غریب لوگوں کے دلوں سے یہ خوف نہیں نکلے گا پاکستان میں حقیقی جمہوریت پنپ نہیں سکتی ۔

سیاست پاکستان :کیا آپ ہمارے قارئین کو بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست کے اسباب بتانا پسند کریں گے ؟

شاہد محمود آرائیں :اسباب تو یقینا ہیں لیکن بات وہی ہے جو میں نے اپنے دوسرے سوال کے جواب میں کہہ دی ہے ۔ میرے خیال سے میری شکست کی سب سے بڑی وجہ میری ناتجربہ کاری اور مالی حیثیت تھی جس کے سبب مجھے کسی سیاسی پارٹی سے ٹکٹ نہ مل سکی اگر یہ ہوجاتا تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا۔

boss 3

سیاست پاکستان :آپ کے خیال میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے لیئے کسی سیاسی پارٹی کا جھنڈا زیادہ اہمیت رکھتا ہے یا امیدوار کی برادری اور پیسہ زیادہ اہم ہوتے ہیں؟

شاہد محمود آرائیں :سیاسی پارٹی کے جھنڈے کی بڑی بات ہوتی ہے مثال کے طور پر اگر حکمران جماعت مجھ جیسے ناچیز کو اپنا پارٹی ٹکٹ دے دیتی تو میری برادری اور میرے حلقہ کے لوگ مجھے آزاد امیدوار کی نسبت زیادہ اہمیت دیتے لیکن جہاں تک بات پیسے کی ہے تو یہ حقیقت تو سب کے سامنے آشکار ہے کہ پیسہ تھیلوں میں پڑے ووٹ کم بھی کرسکتا ہے اور انہیں ڈبل بھی کرواسکتا ہے ۔

سیاست پاکستان :آپ کے خیال میں متوسط الحال لوگوں کے معیارزندگی میں کیسے بہتری آسکتی ہے ؟

شاہد محمود آرائیں :ملک سے کرپشن ، بے روزگاری اور ناانصافی کا خاتمہ ہوجائے تو پاکستان حقیقت میں سونے کی چڑیا بن جائے لیکن ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ لوگ یہاں اپنے معمولی سے ذاتی فائدے کی بنا پر 18 کروڑ پاکستانیوں کی عزت کو داغ دار کرنے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتے ۔ ماڈل گرل ایان علی اور سپارٹ فکسنگ کے شکار قومی کرکٹر اس کی کھلی مثالیں ہیں۔

boss 2

سیاست پاکستان :آرمی چیف کے بیان کہ ”ملک میں بلاامتیاز احتساب ضروری ہے “ کو کیسا دیکھتے ہیں ؟

شاہد محمود آرائیں :میرے خیال میں بھٹوسے لیکرآج تک جتنے بھی سیاستدان آئے ہیں سب نے اپنے اپنے حلقہ احباب کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے جس کی بدولت ملک کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ ہمارے قومی ادارے اقرباپروری کے باعث ہی خسارے میں گئے اور آج ان کا نام و نشان ختم کرنے کی باتیں عام ہیں ۔ ایسے میں اگر ملک کا آرمی چیف ملک سے دہشت گردی سمیت بدعنوانی اور لوٹ مار کا بازار بے نقاب کرنے اور اس دھندے میں ملوث کرداروں کو قرارواقعی سزاد ینے کی بات کررہا ہے تو یہ بلکل درست ہے اور یقینا پور ی قوم اس کی حمایت کرے گی ۔

سیاست پاکستان :آپ کی سیاسی بصیرت کو دیکھتے ہوئے لگ رہا ہے کہ اگر آپ کو سیاسی میدان میں ایک اچھی باری کھیلنے کا موقع مل گیا تو آپ بہت ترقی کریں گے ۔ سیاست پاکستان کی نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔ آپ اس پلیٹ فارم سے کسی کے لیئے کوئی پیغام دینا چاہیں گے ؟

شاہد محمود آرائیں :شاہد محمود آرائیں :میں ایک سیاسی ورکرہونے کے ناطے صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ سیاستدانوں کا کام منتخب ہونے کے بعد لوٹ مار کرنا نہیں بلکہ اپنے حلقہ کے عوام جنھوں نے ان کے ڈریا کسی اور وجہ سے انہیں اسمبلیوں تک پہنچایا ان کا معیار زندگی بہتر کرنے کے لیئے ضرور کچھ نہ کچھ ایسا کرجانا چاہئے جو آنے والی نسلوں تک اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے ۔ کیونکہ یہ عہدے اور حکومتیں آنی جانی چیزیں ہیں لیکن جو مشکل میں کسی کے کام آجائے وہ ہمیشہ یاد رہتا ہے ۔

boss 1






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*