Main Menu

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر موبائل بیلنس پرٹیکس وصول نہ کرنے کا فیصلہ

پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، نگراں صوبائی حکومتوں اور موبائل فون کمپنیز نے عدالت عظمیٰ(سپریم کورٹ) کے حکم کی روشنی میں موبائل بیلنس پر کسی قسم کا ٹیکس وصول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ تاہم یہ پندرہ روز کی ریلیف ہے جس کے بعد موبائل کارڈز پر ٹیکسز کا نیا میکنزم مرتب کیا جائے گا۔
اس وقت 100 روپے کے بیلنس پر صارفین کو تقریباً 64 روپے 28 پیسے کا بیلنس ملتا ہے لیکن اگلے پندرہ روز تک سو روپے کے بیلنس پر صارف کو پورے سو روپے کا بیلنس ملے گا۔

موبائل بیلنس ٹیکسز اور سروس چارج وصول کرنے کا سلسلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات 12 بجے سے ختم ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ موبائل بیلنس ڈلوانے پر اس وقت صوبے 19 اعشاریہ 5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) وصول کر رہے ہیں، ایف بی آر ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 12 اعشاریہ 5 فیصد وصول کرتا ہے، موبائل کمپنیز 10 فیصد سروس چارجز وصول کرتی ہیں جس پر جی ایس ٹی کی مد میں صارفین کو مزید ایک روپے 95 پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*