Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

حلقہ این اے 128:ایاز صادق بمقابلہ علیم خان، جیتے گا کون؟

قومی اسمبلی کے اہم حلقہ این اے 128 (لاہور)میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے کہنہ مشق امیدوار اور ان کے لیئے ووٹ ڈالنے والے اگلے عام انتخابات کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

رواں برس کے وسط میں ہونے والے متوقع انتخابات کے سلسلے میں ہونے والے ایک سروے میں مذکورہ حلقے کے ووٹرز کی جو آراءسامنے آئی ہیں ان کے مطابق کامیابی کے لئے پی ٹی آئی کے راہنماعلیم خان اور پی ایم ایل ن کے راہنما ایاز صادق دونوں کو سخت محنت کرنا ہوگی ۔

سابقہ حلقہ این اے 122 لاہور کا وہ حلقہ ہے جس سے عمران خان اور ایاز صادق نے جنرل الیکشن میں حصہ لیا اور چند ووٹوں سے عمران خان اپنے بچپن کے جگری دوست اور موجودہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے ہاتھوں شکست کھاگئے تھے ۔ عمران خان اور ایاز صادق محلہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ کلاس فیلو بھی رہے اور ان کی بچپن سے پکی یاری بھی بتائی جاتی ہے ۔

عمران خان نے لاہور کے جن چار حلقوں میں دھاندلی کی نشاندہی کی تھی اس میں حلقہ این اے 122 بھی شامل تھا جس کے ضمنی الیکشن میں علیم خان اور ایاز صادق کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں دوبارہ ایاز صادق جیت گئے اس دوران سپیکر قومی اسمبلی کی سیٹ خالی رہی ۔ اس حلقہ میں گڑھی شاہو، سمن آباد ، اچھرہ ، مسلم ٹاون مزنگ ، شادمان شامل تھے ۔ یہاں پر زیادہ تر ووٹر متوسط طبقہ کے شامل ہیں ۔ حلقے میں کاروباری مراکز اور سیاسی راہنماوں کے دفاتر ہیں جس کے وجہ سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔

ایک سروے میں اس حلقہ کے ووٹرز عبدالرحمن عابد، تنظیم اقبال ، روف اعظم ، طلال اکبر ، محمد علی ، جاوید علی ، عابداختر ، محمد سمیع ، نعمان احمد سمیت دیگر کا کہنا تھا کہ حلقہ میں پاکستان تحریک انصاف آنے سے علاقہ مکینوں کو فائدہ حاصل ہوا ہے کیونکہ حکومت اس حلقے کو پہلے سے زیادہ توجہ دے رہی ہے اور اس حلقہ میں موجود ہسپتالوں ، تعلیمی درسگاہوں اور تجارتی مراکز کوسنوارنے کی کوشش کررہی ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق ایاز صادق کے موجودہ دور میں سمن آباد ہسپتال ، کارپیڈسڑکیں ، صاف پانی سمیت دیگر عوامی فلاح کے منصوبوں پر ہونے والا کام حکومت کا کریڈٹ ہے جبکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے لیکن علاقہ مکینوں کو ملازمتوں کے حصول میں تاحال مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*