Main Menu

امریکا اور اسرائیلی لابی نے گستاخانہ فلم کی تیاری پر اکسایا : ڈچ فلم ڈائریکٹر

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک فلم پروڈیوسر اور گستاخانہ فلم تیار کرنے کے مرتکب ہدایت کار51 سالہ آرنود- فان دورن نے انکشاف کیا ہے کہ اسے امریکا اور اسرائیلی لابی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ فلم( فتنہ) کی تیاری پر اکسایا تھا، آج میں اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوں۔

فان دورن نے اپنی حالیہ خلیجی دورے کے دوران کویتی اخبار الرائے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے گستا خانہ فلم بنانے کے بعد اپنے جرم سے توبہ کی اور( دوہزار تیرہ میں) اسلام قبول کرلیا اس کے ساتھ اس نے اسلام کے خلاف سرگرم فریڈیم پارٹی کی قیادت سے علیحدگی اختیار کی تاکہ ایک اسلامی تنظیم قائم کرسکوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہالینڈ کا قانون مذہبی بنیاد پر سیاسی جماعت قائم کرنے کی مکمل اجازت فراہم کرتا ہے گستاخانہ فلم کے پروڈیوسر نے کہا کہ جب میں نے وہ فلم تیار کی تو اس وقت میں اسلام کے بارے میں یہ سمجھتا تھا کہ اسلام سے یورپ کو خطرہ ہے اور اسلام کی وجہ سے یورپ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں مگر یہ کوئی عذر نہیں تھا بلکہ یہ ہماری جاہلیت کا نتیجہ تھا کہ ہم اسلام کی حقانیت سے واقف نہیں تھے ہم فلم کے ذریعے عوام الناس کو اسلام کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہتے تھے مگر آج میں اس فلم کے بنائے جانے پر سخت شرمندہ ہوں ۔

فان دورن گذشتہ برس حج بھی کر چکے ہیں۔انہوں نے ہالینڈ میں پارٹی آف یونیٹی(پارتائی فن دی این ہائید) بنا رکھی ہے جو آنے والی سیاسی سرگرمیوں میں مسلمانوں کی ایک آواز کے طور پر ابھر رہی ہے جبکہ وہ
یورپی دعوہ فاﺅنڈیشن کے صدربھی ہیں۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*