Main Menu

مشرقی غوطہ: شامی فوج کی بمباری،600شہری ہلاک

شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں بشارالاسد کی فوج کی بمباری کے نتیجے میں شامی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعدادچھ سو سے تجاوز کر گئی۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کیلئے قرار داد اور دنیا بھر کی مذمتیں بے سود ثابت ہوئیں۔غوطہ میں شامی حکومت کے فضائی حملے جاری ہیں اور ہر جانب تباہی کے مناظر ہیں۔ روس کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے فیصلے کے بعد بھی غوطہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ جنگ زدہ علاقے میں اسوقت خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق مشرقی غوطہ سے ایک بزرگ پاکستانی شہری اور ان کی اہلیہ کو نکل جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔تاہم اس جوڑے کے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سمیت خاندان کے سترہ بچوں کو غوطہ سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستانی سفارت خانے سے مہینوں تک جاری مذاکرات کے بعد73 سالہ محمد فضل اکرم اور ان کی اہلیہ صغراں بی بی کو مشرقی غوطہ سے نکال کر دمشق منتقل کردیا گیا ہے۔

جنگ زدہ علاقے سے دمشق پہنچنے والے پاکستانی فضل اکرم سے جب صحافی نے سوال پوچھا تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں کہنا، بس اللہ میرے خاندان کی حفاظت کرے۔

واضح رہے کہ اس جنگ میں روس و ایران، شام کے حکمران بشارالاسد کی اندھی حمایت کر رہے ہیں دوسری جانب امریکہ اور ترکی بھی اس جنگ میں کودے ہوئے ہیں تاہم سب سے زیادہ بشارالاسد کی فوجیں ہی اپنے شہریوں کو تہہ و تیغ کرنے اور شہروں کے شہر اجاڑنے میں جتی ہوئی ہیں۔

مشرقی غوطہ جیساخوبصورت علاقہ جو شامی دارالحکومت دمشق کے بہت قریب واقع ہے، اس وقت اپنوں اور بیگانوں کے رحم و کرم پر ہے جبکہ اسلامی و عرب ممالک سمیت پوری دنیا اس وقت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*