Main Menu

ننھی زینب کا قتل: ملک کی اعلی شخصیات کے نوٹس پہ نوٹس

قصور کے مذہبی خاندان کی سات سالہ ننھی زینب کے قتل پر احتجاج کرنے والوں پر پولیس کی فائرنگ، تین ہلاک، متعدد زخمی ہو گئے۔ عوام سراپا احتجاج، پولیس کے اقدام کی مذمت لیکن شریف خاندان کی پنجاب حکومت کی روایتی ڈھٹائی برقرار ۔

اس رلا دینے والے واقعہ کا ملک کی چاربڑی اعلی شخصیات نے نوٹس لیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف منسٹر پنجاب ننھی زینب کے انصاف دلانے کے لیئے سر گرم ہو گئے ہیں۔
تاہم زینب کے گھر والوں نے صرف آرمی چیف اور چیف جسٹس پاکستان سے انصاف دلانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں شریف خاندان کی حکومت اور پنجاب پولیس سے کسی انصاف کی امید نہیں۔

ننھی زینب جسے پانچ روز قبل اغواءکیا گیا تھا،کی تشدد زدہ لاش منگل کے روز کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی ۔اہل علاقہ جب احتجاج کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے دفاتر کے طرف بڑھے تو پولیس نے مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلا دیں جس سے تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کے اطلاعات ہیں۔

حکومت پنجاب نے ڈی پی او ذوالفقار کو عہدے سے ہٹا دیا ہے جبکہ زینب کے قتل کا مجرم جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ شریف خاندان نے پنجاب پولیس کو اپنی غلامی پر تعینات کر رکھا ہے۔عوام کی جسے کوئی فکر نہیں، ایسی پولیس کے ہوتے ہوئے غریب عوام اپنے تحفظ کے لیئے کون سا بازو تلاش کرے؟






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*