Main Menu

پاکستان کے افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات: فائدے میں کون؟

یورپی میڈیا کے ایک چینل یورو نیوز کی مسلسل دی جانے والی خبر کے مطابق بھارت اگلے سال فرانس اور برطانیہ کو اقتصادی مارکیٹ میں پیچھے چھوڑ دیگا۔

ایک ہفتہ قبل امریکہ نے بھی بھارتی اکانومی کو حوصلہ افزاءقرار دیا تھا۔ بھارتی اقتصاد ی ترقی نے دنیا کے توجہ اپنی طرف اس وقت موڑ ی جب ایران افغانستان اوربھارت نے ملکر چاہ بہار بندرگاہ کو تجارت کےلئے کھولا۔

بھارت نے اسی بندرگاہ سے ایک لاکھ ٹن سے زیادہ گندم افغانستان کو بطور تحفہ بھجوائی۔ پاکستان نے ایک عرصہ سے افغانستان کے ساتھ مظبوط تجارت کو اپنی ناقص خارجہ پالیسی کے وجہ سے کھو دیا ہے۔

پاکستان نے افغان تاجروں کی مال بردار گاڑیاں ایک سال سے زیادہ عرصہ تک کراچی کے ساحل پر روکے رکھیں جس کی وجہ سے افغان تاجروں کو کافی نقصان اٹھاناپڑاتھا. افغانیوں کو پاکستان سے زبردستی نکالا گیاتھا جس کے بدلے میں افغان تاجروں نے پاکستانی بنکوں میں برسوں سے رکھے ہوئے زرمبادلہ کو نکال کر، جس کی مالیت ایک اندازے کے مطابق دس بیلن ڈالرز تھی،بھارت،افغانستان اور دوسرے ملکوں میں منتقل کردیا۔ افغانستان کے پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات سے بھارت خوب فائدہ اٹھا رہا ہے اور افغانستان کو قابو کرنے کےلئے بھارت، افغانستان کی ہر قسم امداد کےلئے تیار ہے۔

افغانستان اور بھارت کی قربت سے امریکا اور اس کے اتحادی بھی خوش اور بھارت کی اکانومی کے گیت گا ئے جا رہے ہیں۔ ویسے بھی طویل جنگ سے تباہ حال افغانستان کو زندگی کے ہر شعبے میں تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

ظاہری بات ہے کہ افغانستان کی کوشش ہوگی کہ ایسے ملکوں کو اپنی طرف راغب کرے جو افغانستان کی تعمیرنو میں مدد کریں۔مظبوط اکانومی ایک ملک کے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن ایک ملک اس و قت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس ملک کا سیاسی سیٹ اپ مخلص اور دیانتدارنہ ہو۔

ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تجارت،آمدورفت جیسے پشتو زبان میں راشہ درشہ کہتے ہے نہ ہو تو وہ ملک چاہے کوئی بھی ہوبھارت کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتا۔میں نے مخلص قیادت کا ذکر کیا تھا مثلاً ایران کے اوپر مسلسل ۳۵ سال سے پابندی لگی ہوئے ہیں لیکن پابندیوں کے باوجود ایران نے میزائل ٹیکنالوجی میں خاطرخواہ ترقی کی ہے کیونکہ ایرانیوں کو اپنے وطن سے بے حد پیار ہے۔ ایران نے ابھی تک کسی بھی ناخوشگوار حالت میں کسی ملک کے ساتھ تجارت بندکی ہے نہ تعلقات توڑے ہیں۔ ایران سمجھتا ہے کہ تعلقات توڑنا اور تجارت کی بندشاقتصادی پسماندگی کا سبب بنتی ہے۔ مفادات خواہ کسی قسم کے ہو نہ ہو لیکن بھارت نے ایران کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر، اور ایران نے بھارت اور افغانستان کی دوستی سے فائدہ اٹھا کر اپنی منجمد بندرگاہ کوایک ایسے وقت میں دنیا کے سامنے تجارت کےلئے پیش کیاجب امریکہ ایران پرمزید پابندی لگانے کے لیئے پر تول رہاہے لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ جب تک چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت اور افغانستان تجارت کریگا امریکہ کےلئے ممکن نہیں کہ چاہ بہار بندر گاہ کو بند کراسکے۔

رہا پاکستان کا مستقبل ! تو پاکستان کا مستقبل بھی افغانستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔یہ امر خوش آئندہے کہ حال ہی میں چین، افغانستان اور پاکستان کے وزراءارجہ کے چین میں ہونے والے اجلاس میںچین نے زور دے کر کہا کہ سی پیک میں افغانستان کو بھی شامل کیا جائے گا نہ صرف یہ بلکہ سی پیک کا دائرہ وسیع کرکے اسے مرکزی ایشیا تک پہنچا یا جائے گا۔ پاکستان کو چاہئے کہ ان تینوں ہمسایہ ممالک پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے تا کہ پاکستان کے اقتصادی ترقی کے عمل میںایک دفعہ پھر رونق اور حرکت محسوس ہو۔

سیاست پاکستان کا اوپر شائع کیئے گئے مضمون سے کلی یا جزوی طور پر متفق ہونا ضرور ی نہیں۔ مضمون نگار کے خیالات کو مکمل طور پر ان کی ذاتی آراءکے طور پر یہاں پیش کیا جاتا ہے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*