Main Menu

 بون میروٹرانسپلانٹ میں کامیابی کا تناسب 70 فی صد ہے: ڈاکٹر شمسی

DrShamsi

 پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بانی ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 10 ہزار مریضوں کو بون میرو ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پڑتی ہے ، ملک میں ہر سال 200 مریضوں کو اس علاج کی سہولت میسر آتی ہے باقی 98 فی صد مریض علاج کی سہولت نہ ملنے کے باعث اپنی زندگی گنوا بیٹھتے ہیں، پاکستان میں موجود مریضوں کے لئے 2 ہزار بون میروٹرانسپلانٹ سینٹرز کا قیام ضروری ہے ، پنجاب اور سندھ حکومت نے اس طریقہ علاج کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے سرکاری سطح پر اس کا علاج مفت کرنے کا کام شروع کردیا ہے ، پرائیویٹ ہسپتالوں میں ایک بون میروٹرانسپلانٹ پر 35 لاکھ روپے خرچ آتے ہیں جبکہ ٹرانسپلانٹ میں کامیابی کا تناسب 70 فی صد ہے ، سرکاری اور پرائیویٹ ادارے ملکر ملک میں مزید بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹرز کے قیام کے لئے آگے آئیں تاکہ ہر سال ضائع ہونے والی ہزاروں زندگیاں بچائی جاسکیں۔

 ڈاکٹر طاہر شمسی نے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ جب وہ نوکری کے لئے سرکاری ہسپتال گئے تھے تو انہیں کہا گیا تھا کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ تمہاری آئندہ نسل بھی نہیں کرسکے گی لیکن جب 1995 میں کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں پاکستان کا پہلا بون میروٹرانسپلانٹ کیا گیا تو جنھوں نے میرا انٹرویو کیا تھا ان کی حیرت کی انتہا نہیں رہی ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شمسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں این آئی بی ڈی کراچی اور آرمی کے ہسپتال میں کامیابی کی شرح بین الاقوامی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے اور عالمی سطح پر اس ٹرانسپلانٹ میں کامیابی کی شرح 70 فی صد ہے ۔

 پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کی کلاسز کے حوالے سے پوچھے گئے سوالے جواب میں ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ چلڈرن ہسپتال اور انسٹی ٹیوٹ آف چلڈرن ہیلتھ کے عملہ نے این آئی بی ڈی میں 6 ماہ تربیت لی ہے جس کے بعد وہ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں یہ آپریشن کرنے کا کامیاب تجربہ بھی کرچکے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 19 ستمبر کو چلڈرن ہسپتال میں ہونے والے 2 بون میرو ٹرانسپلانٹ میں سے ایک چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ہی کیا ہے ۔

 ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا ہے کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لئے فضا میں بیکٹیریا کی موجودگی کو صفر بننا ضروری ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کرنے کے لئے آپریشن تھیٹر میں بیکٹیریا کی موجودگی صفر ہونی چاہئےے جبکہ چلڈرن ہسپتال کے جس آپریشن تھیٹر میں پہلا ٹرانسپلانٹ کیا جانا تھا وہاں 6 ہفتے پہلے 4000 بیکٹیریا موجود تھے ۔
انٹرویو : اشفاق مغل / تصاویر : عبدالقادر






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*