Main Menu

دخترِ وزیراعظم مریم صفدر کی پیشی کے بعد جے آئی ٹی پر تنقید

maryamNawazAddressMediaAfte

وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم صفدر( جنہیں مریم نواز بھی کہا جاتا ہے)سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم( جے آئی ٹی )کے سامنے پیش ہوئیں۔انہیں لگ بھگ تیرہ سرکاری گاڑیوں پر مشتمل کارواں اور خصوصی پروٹوکول کے ذریعے جوڈیشل اکیڈمی لایا گیا۔

ان کے ہمراہ ان کے دونوں بھائی،حسن و حسین،ان کے خاوند کپٹن(ر) محمد صفدر، ان کے داماد، وزیراعظم کے خصوصی مشیر سعید کرمانی اور وفاقی وزیر برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب موجود تھے۔

کار سے اترتے ہی مریم نوازکی حفاظت پر مامور ایک خاتون پولیس آفیسر نے انہیں سیلوٹ پیش کیا اور مریم نواز کے ہاتھ سے زمین پر گرنے والی کوئی چیز اٹھا کر پیش کی جس پر مریم نواز نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر اردگرد  مسلم لیگ نواز کے عہدیداران اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔  مریم نواز نے مسکراتے چہرے کے ساتھ ہاتھ ہلا کر ان کارکنوں کی آمد اور ان کے اظہارِ یک جہتی کا جواب دیا۔

 پاکستان کے برقی صحافتی اداروں کے مطابق منگل کے روز لگ بھگ دو گھنٹے جے آئی ٹی نے دخترِ نواز شریف سے لندن فلیٹس سے متعلقہ سوالات کیئے۔ مریم نواز شریف نے بعد میں میڈیا کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب دیئے تاہم انہوں نے آخر میں جے آئی ٹی سے سوال کیا کہ انہیں بتایا جائے کہ ان کا جرم کیا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس سوال کا جے آئی ٹی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔انہوں نے پاناما لیکس کو نواز خاندان کے خلاف سازش قرار دیا۔

مریم نواز نے اپنے اس تقریر نما بیان میں جے آئی ٹی پر کھلی اور دیگر اداروں پر دبے لفظوں میں شدید تنقید کی۔

جب سامنے موجود ملکی صحافتی اداروں کے نمائندوں نے دورانِ بیان ان سے سوال کرنے کی جسارت کی تو انہوں نے صحافیوں کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ پہلے انہیں اپنا بیان ختم کرنے دیا جائے لیکن جیسے ہے انہوں نے اپنا بیان ختم کیا تو وہ صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر واپس وزیراعظم ہاﺅس چلی گئیں۔

maryamNatJTI1policeOficerSalutingMND






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*