Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

عمران خان کامیابی کےلئے بنی گالہ کو چھوڑ کر زمان پارک کو اپنا مسکن بنائیں۔ میاں سہیل اسماعیل

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے ،پانامہ پیپرزکے انکشافات کے بعد نواز شریف کو خود ہی مستعفی ہوجانا چاہئے

انٹرویو: اشفاق مغل

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اندرونی معاملات دیکھیں تو ایک چیز قدرے مشترک اور کثرت سے ملتی ہے کہ پارٹی ورکرہو یاراہ نماسب کے سب پارٹی لیڈرشپ کی ضرورت سے زیادہ تعریفیں اور صرف اچھے دنوں کے ساتھی ہوا کرتے ہیں لیکن آج ہم اپنے قارئین کو ایک ایسی سماجی و سیاسی شخصیت سے روشناس کروانا چاہتے ہیں جو ایک کامیاب بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت عجزوانکسار، عاقبت اندیش اور دھول دھپا سے دور رہنے والے سیاستدان ہیں ۔ اپنے سیاسی مخالفین کے اچھے کاموں کو توخوب سراہتے ہیں لیکن اگر کوئی کہیں کسی سے زیادتی کرتا ہے تو اس کے خلاف موثرانداز میں حق کا علم بلند کرنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں ۔ میری مراد کئی ایک خوبیوں کے مالک پاکستان فلم ایوارڈ اکیڈمی کے چیئرمین ،پی ٹی آئی کلچرونگ پنجاب کے سابق آرگنائزراورپاکستان پولٹری ٹیک انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹومیاں سہیل اسماعیل ہیں ۔ اس باوقار،درویش صفت اورخوش مزاج شخصیت سے ”نمائندہ سیاست پاکستان “کی جو گفتگو ہوئی وہ ہمارے قارئین کی نذرکرتے ہیں ۔

سیاست پاکستان :میاں صاحب !آج کل پانامہ پیپرز کی دھوم پوری دنیا میں ہے ہمارے ملک کے وزیراعظم سمیت تقریبا200 سے زائد پاکستانی اس پیپرکی سٹوری میں منظرعام پر آئے ہیں اس بارے آپ کیا کہیں گے ؟
میاں سہیل اسماعیل :ہم پہلے بھی کئی سالوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اوراب پانامہ پیپرزکے انکشافات نے ثابت کردیا ہے کہ شریف فیملی کی کرپشن نے قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرکے رکھ دیں ہیں ۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اخلاقی جرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدہ سے مستعفی ہوکرکسی باضمیرسیاستدان کوآگے آنے کا موقع دیں کیونکہ کرپشن ختم کیئے بغیر پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی ممکن نہیں ہے ۔میں یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اگر وزیراعظم کواس جرم میں سزا مل گئی تو یقینا باقی کے لوگوں کو قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔

سیاست پاکستان :ملک میں احتساب کا عمل انتہائی سست اور پیچیدہ ہے ، مقتدرقوتیں بھی اس میں حائل ہوکراس کی شفافیت کو نقصان پہنچاتی ہیں اس بارے آپ کا موقف کیا ہے ؟
میاں سہیل اسماعیل :میرے خیال میں اس ادارے کو کسی کے دباو¿ میں آنے کی ضرورت نہیں اگر کسی نے قوم و ملک کی دولت لوٹی ہے تو یقینا اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے ۔ قومی احتساب بیورو(نیب )کو سندھ اور پنجاب سمیت ملک بھر میں بلاتفریق کارروائیاں کرکے بدعنوان لوگوں کو عبرت کا نشان بناکرپورے ملک کے لیئے مثال قائم کرنی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی شخص قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کی جسارت نہ کرسکے ۔ نیب نے کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا جو اصولی فیصلہ کیا ہے اس پر پوری قوم کو فائدہ ہوگااس لیئے نیب کی کارروائیاں بلاتمیز جاری رہنی چاہیںتاکہ پڑھے لکھے لوگ اپنے وطن میں انصاف کو دیکھتے ہوئے یہاں رہنے کوترجیح دیں۔msi with leadership

سیاست پاکستان :پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات ملتوی ہوچکے ہیں آپ کے خیال میں اس کے کیااسباب ہیں ؟
میاں سہیل اسماعیل :میرے خیال میں عمران خان صاحب تک ہماری درخواست پہنچ گئی ہے جس میں ہم نے انٹراپارٹی انتخابات مہم کے دوران ہونے والی سرگرمیوں سے پارٹی لیڈر کو آگاہ کیا تھا۔ ہم نے نشاندہی کی کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کی تیاری میں پیسے کے بے دریغ استعمال سے پارٹی کو شدید نقصان ہورہاتھا۔پارٹی کے اندر پارٹیاں بن رہی تھیں۔ انٹراپارٹی الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگانے والے پارٹی کو کمزور کررہے تھے ۔ پارٹی قیادت کوایک ایسی پالیسی بنانے کی درخواست کی تھی کہ جس میں کوئی بھی امیدوار اپنے مخالفین کو برابھلا نہ کہہ سکے اور اپنی جیت کے لیئے اپنے پیسے کا ناجائز استعمال نہ کرسکے ۔انٹراپارٹی انتخابات کی موثراور جامع حکمت عملی کے بغیر ان انتخابات کاانعقادپارٹی کے لیئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا تھا ۔ ہم ورکروں کی درخواست پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نوٹس لیکر پارٹی کوبڑی تباہی سے بچالیا۔ اس سب کے باوجود پارٹی لیڈر شپ کا ملک میں کرپشن کے خلاف شدید احتجاج کا اعلان ہی انٹراپارٹی انتخابات کے التواکا باعث بنا۔

سیاست پاکستان :موجودہ حکومت کے دور میں مشاہدے میں آیا ہے کہ بے روزگاری ، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ اورپٹرول کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے کیا آپ اس سے متفق ہیں ؟
میاں سہیل اسماعیل :مجھے حکومت کے ہر اچھے کام سے خوشی ہوتی ہے کیونکہ اس سے عام آدمی کے لیئے آسانی پیدا ہوتی ہے ۔ میں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا لیکن حکومت جہاں غریب لوگوں کا استحصال کرتی ہے میں وہاں حق کا علم ضروربلندکرتا دکھائی دوں گا۔ مثال کے طور پر جب مسلم لیگ (ن )کی حکومت پاکستانی ثقافت کو فروغ دینے کی بجائے اسے تباہ کرنے پر تلی ہوگی تو میں ضروراس کی نشاندہی کروں گا۔ پنجاب حکومت ترقیاتی منصوبے ضرور بنائے لیکن تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے ۔

سیاست پاکستان :اورنج لائن ٹرین منصوبے کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے ؟
میاں سہیل اسماعیل :جیسے میں نے پہلے کہا کہ میری عادت نہیں کہ میں بلاجواز حکومت کے کسی منصوبے پر تنقیدکروںلیکن حکومت کوبھی چاہئے کہ وہ چاہے اورنج لائن بنائیں ، کوئی نیلی یاپیلی ٹرین چلانے کا منصوبہ بنائیں ۔ بس اس میں اتنا دیکھ لیا کریں کہ اس کے راستے میں آنے والی تاریخی عمارتوں اور آس پاس کی آبادیوں کے مکینوں کی عمر بھر کی کمائی اس منصوبے کی زد میں نہ آجائے ۔مجھے تواس بات کا بھی افسوس ہے کہ جس طرح جاتی عمرہ کے آس پاس کی زمین ڈی سی ریٹ پر زبردستی خرید کر وہاں سکیورٹی وال بنائی گئی اسی طرح اورنج لائن ٹرین کے راستے میں آنے والے مکینوں کو بھی ڈی سی ریٹ پر ٹرخایا جارہا ہے جو کہ مناسب نہیں ۔

msi protest pic

سیاست پاکستان :میاں صاحب ! آپ سے گزشتہ ملاقات میں آپ نے عمران خان کو لاہور کے زمان پارک میں ڈیرے ڈالنا کا مشورہ دیا تھا اس کی وجہ ہمارے قارئین کو بھی بتائیں گے ؟
میاں سہیل اسماعیل :جی بالکل !جس طرح لاہور پاکستان کا دل ہے اسی طرح زندہ دلوں کا شہر لاہور پاکستانی سیاست کا گڑھ بھی ہے جس سیاستدان نے لاہور کی سیاست میں اپنا مقام بنایا وہ ضرور وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوتا ہے لہذا میں نے بطور پارٹی ورکرہمیشہ عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بنی گالا کی رہائش کو چھوڑ کرلاہور کواپنا مسکن بنائیں اور لاہور کی گلیوں میں جاکر عوام سے اپنا رابطہ مضبوط بنائیں تاکہ آنے والے الیکشن میں پارٹی کی پوزیشن کو مضبوط بنایا جاسکے ۔ میں اپنی قیادت کے رائیونڈ میں احتجاجی دھرنے کے فیصلے سے بے حد خوش ہوں ۔ یہ احتجاجی مارچ گزشتہ مارچ کی نسبت زیادہ کامیاب رہنے کی امید ہے ۔

سیاست پاکستان :پارٹی میں کروڑپتی راہ نماوں کی انٹری کے بعد سے عمران خان خوش جبکہ پارٹی کے پرانے ورکرمایوسی کا شکار ہیں اس پر کیا کہیں گے ؟
میاں سہیل اسماعیل :یقینا پارٹی کو سرمایہ دار لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے لیکن پارٹی کا اثاثہ اس کا گلی محلے کا ورکر ہوتا ہے ۔ اس پر میں عمران خان کو کہی کہوں گا کہ وہ کروڑوں روپے والے پارٹی عہدیداروں سے بھی ضرور ملیں اور انہیں اپنا قیمتی وقت دیں لیکن اپنی پارٹی کی حقیقی طاقت جو کہ عام کارکن ہے اسے بھی اہمیت دیں کیونکہ پارٹی کے عام کارکنوں کو اہمیت اور عزت دینے سے ہی پاکستان تحریک انصاف مضبوط جماعت بنے گی ۔

سیاست پاکستان :پاکستان فلم ایوارڈ اکیڈمی کے چیئرمین اور پی ٹی آئی کلچرونگ پنجاب کے سابق آرگنائزرکی حیثیت سے اپنے جذبات کی ہمارے اس پلیٹ فارم کے ذریعے عکاسی کرنا چاہیںگے ؟
میاں سہیل اسماعیل :ادیب ، شاعراور فنکارکسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جو اپنے فن سے معاشرے کی بہتری کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں ہمارے ملک میں فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کی اکثریت اپنی چھت سے محروم ہے اور بڑی کسم پرسی کی حالت میں زندگی کے آخری ایام گزارتے ہیں لہذاوفاقی حکومت سمیت چاروں صوبوں کی حکومتوں کو فنون لطیفہ سے وابستہ مستحق لوگوں کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ان کو فلیٹس بناکردیئے جائیں ۔ اس ضمن میں کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے فنون لطیفہ سے وابستہ لوگوں کو گزشتہ دنوں خصوصی ایوارڈز کے ساتھ نقد انعامات سے بھی نوازا ہے جو کہ قابل ستائش عمل ہے ۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*