Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

جینے کی خواہش کیسی ، مرنے کا ڈر کیسا؟

تحریر۔ محمد فیضان طاہر
پسینے میں شرابور لیٹی ماں لالٹین کی روشنی میں اپنے لختِ جگر کو پہلی بار دیکھتی ہے. پیار اور محبت اسکی آنکھوں سے جھلک کر ننھی جان کے گالوں پر گرتا ہے تو بچے کے اس شوروغل پر برآمدے میں بیٹھے بوڑھے ماں باپ کھانستے اور بھاگنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے پوتے کو دیکھنے کے لئے آن پہنچتے ہیں. حیرت ہے اک ننھی سی جان جو بے آب وتاب رو رہی ہے اور اسکے گرد چارلوگوں کی ہونٹوں پہ مسکرا ہٹ اور آنکھوں میں آنسو ہیں. شاید یہی احساس ہوتا ہے کہ اک نئی زندگی کے جنم کا کہ جو اک ماں کو چند لمحے قبل موت کی کیفیت سے دوچار ہونے کے عمل کو، کسان باپ کی تین دن کی نیند کو، اور دادا دادی کے بڑھاپے تک کو بھلا دیتی ہے. شاید یہی وہ خوشی ہے جو انسان لفظوں میں بیان تو نہیں کر پاتا ہے، آنکھوں سے گرے خوشی کے آنسووں میں ضرور دیکھ سکتا ہے. نرس بھاگتے ہوئے فون پہ مصروف باپ کو لڑکے کی خوشخبری سے آشنا کرتی ہے تو باپ بھاگتے ہوئے بیٹے کو دیکھنے کے لئے چائلڈ روم کی طرف بڑھتا ہے، جہاں اپنے آئی فون سے فوٹو بنا کہ فوراً ہی فیس بک پہ اَپ لوڈ کر دیتا ہے۔
God has blessed me with a son
کے سٹیٹس کو اک ہی گھنٹے میں پچاس لائیکس اور چند کمنٹس باپ کی خوشی کو اور بھی دوبالا کر دیتی ہے. تین دن پورے ہوتے ہی خاور اپنی اہلیہ کو گھر لے آتا ہے جہاں انکے باقی خاندان کے افراد پھولوں اور تحائف کی ٹوکری کے ساتھ خوش آمدید کر تے ہیں. سب کے ہی چہروں پر آڑمیر کو دیکھنے کی خواہش اور ھاتھوں میں مختلف تحائف ہوتے ہیں. کسان کا بیٹا لگ بھگ چار سال کا ہو گیا تھا تو بلقیس نے خاوند کو قریبی ہی مڈل سکول میں داخل کروانے کی خواہش ظاہر کر دی. چونکہ یہ اسکی اکلوتی اولاد تھی تو باپ بھی فوراً اسحاق کو لے کر ھیڈماسٹر کے پاس پہنچا. اسحاق کی پیشانی کی سلوٹیں یہ صاف واضح کر رہی تھیں کہ وہ گھر کی اس جنت کو چھوڑ کہ بڑی مونچھوں والے ماسٹرکو کبھی دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا. یہ باپ کا فطری ڈر ہی تھا جو ابھی تک اسحاق وہاں سے بھاگا نہیں تھا. اور یہ ڈر اور نہ بھاگنے کے فیصلے  نے ہی اسے اگلے چند سالوں تک سکول سے باندھے رکھا. سکول سے گھر، گھر سے کھیت، کھیت سے پھر گھر، رات کو دادا دادی کی خدمت اور کبھی دل  کیا تو ڈیوے کی روشنی میں کبھی کبھار کتاب بھی کھول لیتا تھا. وقت گزرتا گیا اور اسحاق بلوغت سے جوانی کے دور میں قدم رکھ چکا تھا. اس کو بے لوث پیار کرنے والے دادا دادی تو نہ رہے پر ماں باپ ضرور دادا دادی کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے جا رہے تھے. شاید یہی زندگی کا چکا ہے جو مسلسل گھومتا ہے اور انسان کو بھی گھما تا ہے. شہری زندگی کی گہماگہمی میں کب آڑمیر بڑا ہوا، کب اسکا داخلہ پرائیویٹ میڈیکل کالج میں ہوا، کب اسکی فیسیں دیتے دیتے باپ کی بھنویں سفید ہو گئیں، کب اسکی ماں جینز چھوڑ کر اپنی جسامت کی وجہ سے کھلے ڈھلے کپڑے پہننے پر مجبور ہو گئی، پتہ ہی نہیں چلا. کم نمبروں کی وجہ سے پرائیویٹ کالج میں پڑھنے والے آڑمیر کے باپ نے جھٹ سے سرکاری نوکری لگوا دی اور گھر کے پاس ہی ڈیفنس ایریامیں ایک کلینک کھول کے دے دیا لیکن زندگی آخر زندگی ہی ہے جو ناگہانی آفت لے ہی آتی ہے. باپ کی حادثاتی موت نے آژمیر پہ زندگی کی کچھ تلخ سچائیاں کھولنا شروع کر دیں. ماں کو سنبھالنا، گھر چلانا، دو دو نوکریاں کرنا. اور آخر میں بچوں کی خوشی کیلئے ہر چیز قربان کردینا ہی اسکی زندگی بنتی جا رہی تھی. گندم کی بوری اٹھائے اسحاق گھر میں داخل ہو اتو ٹوٹی چارپائی پہ لیٹے باپ نے فخر سے اپنے مڈل پاس بیٹے کو دیکھا جو آہستہ آہستہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو رہا تھا. اپنی خالہ کی بیٹی سے اس کم عمری میں شادی نے شاید اسحاق کو اور بھی سنجیدہ بنا دیا تھا. اور اگلے ہی سال اولاد کی خوشی نے اسکو اور ذمہ دار بننے پر مجبور کر دیا تھا. ستر برس کے باپ کو روز دیر تک کھانستے ہوئے دیکھتا تو اب لگتا جیسے وہ چند ہی دن کا مہمان ہے. کل ہی کی بات لگتی تھی جب اس چارپائی پر اسکے باپ کی جگہ اسکا دادا لیٹا ھوا کھانستا تھا اور کچھ ہی عرصے میں وہ اس چارپائی پر لیٹا ہو گا، اس خیال نے اسکو زاروقطار رونے پر مجبور کر دیا. باپ کا ہاتھ تھامے اسکی بے بس نظروں کو جس میں شاید ابھی بھی بہت جینے کی امنگ باقی تھی ٹکٹکی باندھے دیکھا جا رہا تھا. جانے اسکی آنکھوں میںہزار باتیں اور نصیحتیں تھیں. ‘بیٹا میں تم سے بہت پیار کرتاہوں، بیٹا ماں کا خیال رکھنا، بیٹا دل لگا کہ کاشتکاری کرنا، بیٹا کبھی بے ایمانی نہ کرنا’ لیکن یہ کمبخت ھونٹ تھے کہ ساتھ ہی نہیں دے رہے تھے، یہ کمبخت ز بان تھی ھس میں جنبش نہیں آ رہی تھی. لا الہ الا اللہ اسکے ذہن میں آیا اور روح پرواز کر گئی اور اسحاق کے ذہن میں اک ہی سوال چھوڑ گئی کیا یہی زندگی ہے؟

 یہ کہانی اسحاق اور آژمیر کی نہیں ہے، یہ کہانی دو گھرانوں کی نہیں ہے، یہ کہانی دو مختلف طبقوں کی بھی نہیں ہے، یہ کہانی زندگی کی ہے، آپ آژمیر ہو یا اسحاق، فرق کہاں ہے، آپ امیر ہو یا غریب فرق کہاں ہے؟ آپ شہری ہو یا دیہاتی فرق کہاں ہے؟ سب نے زندگی کی ایک ہی چکی میں پسنا ہے. سب نے اپنوں کو بچھڑتے دیکھنا ہے. سب نے کبھی نہ کبھی زندگی کے معنوں کو سمجھنا ہے. سب نے خود کو قبر کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہوئے دیکھنا ہے تو زندگی کسی کیلئے آسان ہو یا مشکل، آسائشوں سے بھری ہوئی ہو یا مشکلات کا انبار، جب سب نے مٹی میں ہی دفن ھونا تو پھر فرق کہاں ؟ جب کسی گورے کو کالے پر، کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں ہے تو پھر فرق کہاں ہے؟ جب امیری غریبی، تنگدستی خوشحالی، زات پات سب عارضی ہیں تو پھر فرق کہاں ہے؟ اگر فرق نہیں ہے تو پھر یہ عارضی موازنہ کیسا؟ اس فرق کے نام پہ زات پات کے جھگڑے کیسے؟ اس فرق کے نام پہ قتل و غارت کیسی؟ اس فرق کے نام پر تعصب، گھمنڈ اور حسد کیسا؟ گداگری کیسی، امیری کیسی، کامیابی کیسی، خوبصورتی کیسی، بد صورتی کیسی؟ جینے کی خواہش کیسی اور مرنے کا ڈر کیسا؟






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*