Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

  پولیس والوں کے قاتل بڑے ایوانوں میں بیٹھے ہیں: آئی جی سندھ

سندھ پولیس کے سربراہ ،انسپکٹر جنرل (آئی جی) اللہ ڈنو خواجہ(اے ڈی خواجہ) نے کہا کہ1995-1996 میں کراچی میں کامیاب آپریشن سرانجام دینے والے پولیس افسران کو چن چن کر قتل کیا گیا اور ان کو مارنے والے اب بھی بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔

آئی جی نے انگریز دور سے نافذ پولیس قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس کو رینجرز یا فوج کی بیساکھیوں پر کب تک چلایا جائے گا؟آئی جی سندھ کے مطابق لوگوں کی پولیس سے بہت توقعات ہیں اور پولیس ان توقعات پر پورا نہیں اتر پارہی جس کی وجہ 1861 کا قانون ہے۔

منگل کے روزکراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ 1995-1996 میں جب کراچی شہر میں آپریشن ہوا تو یہاں رینجرز یا فوج موجود نہیں تھی، سندھ پولیس نے کامیابی سے اس آپریشن کو مکمل کیالیکن اس آپریشن کو سیاست کی نذر کردیا گیا اور اپنی جان پر کھیل کر شہر کا امن بحال کرنے والے پولیس افسران کو چن چن کر کراچی کی سڑکوں اور مساجد میں شہید کیا گیا۔ پولیس افسران کے بہیمانہ قتل کے ان واقعات کا سندھ پولیس کے مورال پر اثر ہوا۔

اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں جان پر کھیل کر شہر کا امن اور روشنیاں بحال کرنے والے پولیس افسران منہ چھپا کر نکلنے پر مجبور ہوگئے اور کوئی افسر وردی پہن کر گھر جانے اور ڈیوٹی پر آنے کو تیار نہیں تھا۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ وہ بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ شہر میں دہشت گردی کے تمام بڑے واقعات میں ملوث ملزمان کو پولیس نے کیفر کردار تک پہنچایا اور گرفتار کیا۔پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ان بیساکھیوں سے چھٹکارے کے لیے آئی جی سندھ پولیس نے انگریز دور کے قانون کو ختم کرنے کی تجویز دی۔ان کا کہنا تھا کہ 1861 کا قانون ہاتھ میں پکڑا کر ہم سے 21ویں صدی کی توقعات کیسے رکھی جاسکتی ہیں؟






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*