Main Menu

پاک چین اقتصادی راہداری کے ثمرات اور عام پاکستانی کا مسئلہ

cpec

پاک چین اقتصادی راہداری کے ثمرات اور عام پاکستانی کا مسئلہ

پاک چین اقتصادی راہداری، جسے گیم چینجربھی کہا جا تاہے، کے بارے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے بارے میں چین کی جانب سے مسلسل زور دیا جا رہاہے ۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اس وقت کی تینوں حکمران جماعتیں مسلم لیگ ن ، پی پی پی اور تحریک انصاف اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود اس منصوبے کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔ گوادر پورٹ آپریشنل ہو چکی ہے۔ قافلے آ جارہے ہیں ا ور سمندری حدود میں مال بردار جہازوں کی نگرانی اور حفاظت نئی اور جدید بحری فورس کے سپرد کی جا چکی ہے۔یہ معاملہ سمندر کی وسعتوں کی طرح بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مگرایک نہیں کئی دشمن ترقی کے اس نئے مرکز اور گیمز چینجرمنصوبے سے پریشان ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت بہرحال پریقین نظر آتی ہے کہ اس منصوبے کے ثمرات ملک کے ہر حصے تک پہنچیں گے اور اس پر نظر بد رکھنے والوں کے توڑ کے لیئے تیاریوں میں کمی نہ آنے پائے گی۔
پاکستان ایک آزاد رریاست ہے اور اس کے باشندے اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اگر کمزور معاشی حالات کے باعث انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں، معیاری ادویات ناپید ہیں یا پینے کے صاف پانی، بجلی اور گیس کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے تو کم از کم ان کی جان ومال کی حفاظت تو یقینی ہو۔ دہشت گردوں اورقتل و غارت گری کرنےوالے دوسرے گروہوں نے ایک عام پاکستانی کے دل میں یہ خو ف بٹھا دیا ہے کہ وہ اور اس کے قریبی لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ پاکستانی پولیس امراءکے کہنے پر شرفاءاور غرباءکو تہہ و بالا کرنے پر اپنی توانائیان صرف کرنے کے لیئے مشہور ہے۔دیگر حکومتی سیکورٹی اداروں پر بھی کلی طور پر بھروسہ کرنے کی کوئی روایت نہیں۔ حکومت کے سیکورٹی اداروں کو ایک عام آدمی کے دل سے یہ خوف نکالنا ہوگا کہ اس کی اور اس کے خاندان کی زندگی کی اس پاک سرزمین میں کوئی وقعت نہیں۔عام پاکستانی کے لیئے بہرحال ایک بات ضرور باعث اطمینان ہے کہ جنرل کیانی دور میں دہشت گردوںکو لگام دینے کاجو کام شروع ہو ا ،جس میںسوات آپریشن کی کامیابی بھی شامل ہے ، اسے جنرل راحیل شریف نے نواز حکومت کے تعاون سے دلیری سے آگے بڑھایا جس سے ملک کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ راحیل شریف نے درجنوں کے حساب سے جنونی دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا۔اب نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردو ں سے نجات کی جنگ ”ضرب عضب “کی کمان وہیں سے پکڑی ہے جہاں جنرل راحیل چھوڑ کر گئے تھے۔قوم کا اس پر اتفاق ہے کہ آخری دہشت گردکی موت اور ملک میں مکمل امن تک جنگ جاری رہے گی۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*