Main Menu

پاکستانی حکمرانوں نے آزادی کشمیر کے سنہری مواقع ضائع کئے۔عبدالرشید ترابی

n5152-660x330-600x330

پاکستانی حکمرانوں نے آزادی کشمیر کے سنہری مواقع ضائع کئے۔عبدالرشید ترابی

٭….٭….٭
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن اور امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی سے ”سیاست پاکستانکے لیے حامد ریاض ڈوگر کا خصوصی انٹرویو
٭….٭….٭
آصف علی زرداری نے زلزلہ کے متاثرین کے لیے ملنے والے عطیات کے 56 ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں لگا دیئے
٭….٭….٭
حامد ریاض ڈوگر
hamidriazdogar@yahoo.com

سیاست پاکستان: بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر پندرہ اگست کو جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے مظفر آباد سے لائن آف کنٹرول کی جانب چکوٹھی تک مارچ کیا اس مارچ کے مقاصد اور اہداف کیا تھے اور انہیں حاصل کرنے میں آپ کو کس حد تک کامیابی ملی ؟

عبدالرشید ترابی: آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھارت کے یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اس موقع پر جماعت اسلامی نے اپنے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور مجبور بھائیوں کو حوصلہ اور امید کا پیغام دینے کے لیے ”آزادی کشمیر مارچ“ کا اہتمام کیا الحمد للہ ہمیں اپنے مقاصد کے حصول میں بھر پور کامیابی حاصل ہوئی ہم مطمئن ہیں کہ ہمارے ہدف سے زیادہ لوگ مارچ کے لیے جمع ہوئے اور انہوں نے زبردست جوش و خروش سے مارچ میں حصہ لیا ۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سنیٹر سراج الحق اور وزیر اعظم آزاد کشمیر حیدر فاروق نے بھی اس مارچ میں شرکت کر کے اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ اس طرح اس مارچ کے ذریعے کشمیری بھائیوں کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہم ایک موثر پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے۔ ضرورت ہے کہ پاکستان کی حکومت اور یہاں کی قیادت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے اپنی استطاعت اور دنیا کی توقعات سے بڑھ کر آزادی کی تحریک کے لیے قربانیاں پیش کر دی ہیں۔ اب پاکستانی قوم کی یہ ذمہ داری ہے کہ عالمی سطح پر رائے عامہ کے دباﺅ کو بڑھانے کے چیلنج کو قبول کرے ۔

سیاست پاکستان:ایل او سی کے پار کشمیر کے حالات انتہائی گھمبیر ہیں ہر روز نوجوان اور بچے شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال سے متعلق مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے آپ کے روابط کی کیا صورت ہے اور ان حالات میں پاکستان سے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی مدد کس طرح ممکن ہے؟

عبدالرشید ترابی: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پچھلے پورے عرصہ میں مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت سے ہمارے بھر پور روابط قائم رہے ہیں۔یہ روابط ٹیلی فون کے ذریعے بھی استوار ہیں اور دیگر ذرائع بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کے اندر بھی حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین ، جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے رہنما مولانا غلام نبی نوشہری اور دیگر تمام تنظیموں کے نمائندے موجود ہیں اور باہمی مشاورت اور روابط کے ذریعے تحریک آزادی کشمیر کی صورتحال سے ہمیں مکمل آگاہی رہتی ہے۔ وہاں مشکلات کے باوجود کشمیری مسلمان بھائیوں نے تحریک آزادی کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ خصوصاً نوجوان، طلبہ ڈاکٹر اور انجینئر اس تحریک میں زبردست کردار ادا کر رہے ہیں۔آر پار کی قیادت تحریک سے متعلق مختلف امور پر باہم مشاورت بھی کرتی ہے اور رابطے بھی موجود ہیں۔ اور مختلف ذرائع سے تعاون کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ بھارت میں اپنے مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے داخلے پر شدید نوعیت کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تاہم اس کے باوجود ہم سے جو کچھ ہو سکتا ہے ہم اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں سے تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سیاست پاکستان:موجودہ عالمی اور علاقائی تناظر میں طویل عرصہ سے جاری جدوجہد آزادی کشمیر کی کامیابی کے کیا امکانات آپ کو نظر آتے ہیں؟

عبدالرشید ترابی: ہمیں تو اپنی جدوجہد کی کامیابی پر مکمل یقین ہے اور فتح سامنے نظر آ رہی ہے جب پاکستان قائم ہوا اس وقت آج سے زیادہ مشکل حالات تے یہاں برطانیہ جیسی سوپر طاقت کا قبضہ تھا۔ ان کی حکومت، سیاستدان ، دانشور ور اور فوج کوئی بھی پاکستان قائم کرنے پر آمادہ نہیں تھے اور انہیں آبادی کی بڑی اکثریت ہندو کی حمایت بھی حاصل تھی مگر جب مسلمان کھڑے ہو گئے اور جب منزل کا تعین کر لیا تو قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم نیشنل از کا ایک بالکل نیا نظریہ پیش کیا تو اسے تسلیم کرا کے چھوڑا۔ اس وقت کوئی ملک اس آزادی کی تحریک کی پشت پر موجود نہ تھا۔ جب کہ آج تو پاکستان جیسی ایٹمی طاقت تحریک آزادی کشمیر کی پشت پر موجود ہے اور امت مسلمہ کی بھی وسیع حمایت ہماری تحریک کو حاصل ہے ۔ ناموافق بین الاقوامی ماحول کے باوجود دنیا کا ایک بھی ملک کشمیر کو بھارت کاٹوٹ انگ تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔

سیاست پاکستان:کشمیر کی جدوجہد آزادی بہت طول کھینچ چکی ہے بھارت بھی ظلم و جبر کی انتہا کیے ہوئے ہے ، بین الاقوامی سطح پر بھی مظلوم کشمیریوں کی شنوائی نہیں ہو رہی اور پاکستان کے اندروانی حالات بھی کچھ زیادہ اطمینان بخش نہیں، اس صورت حال میں تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی سے متعلق آپ کے دعوﺅں پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے؟

عبدالرشید ترابی: ہر طرح کے ظلم ، جبر اور تشدد کے باوجود کشمیریوں نے بھارت کے تسلط کو قبول نہیں کیا۔ پچیس تیس سال پہلے کیا کوئی تصور کر سکتا تھا کہ سوویت یونین جیسی بڑی طاقت افغانوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے گی۔ امریکہ جو اپنے وقت کی واحد سپر پاور کے زعم میں مبتلا ہے افغانستان اور عراق میں جس رسوائی سے دو چار ہو ہے کیا کبھی اس کا تصور کیا جا سکتا تھا۔ مقافات عمل کا نظام چل رہا ہے ہم پر امید ہیں مگر ہماری جدوجہد کی کامیابی کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نظریاتی، سیاسی اور معاشی لحاظ سے جتنا مستحکم ہو گا اور یہاں کی قیادت جتنی مدبر ہو گی ، ہماری آزادی کی منزل اتنی قریب آتی جائے گی۔ کوئی چاہے کچھ کہے ہماری رائے اور ہمارا یقین ہے کہ کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے۔

سیاست پاکستان:یہ درست ہے کہ مایوسی گناہ ہے اور امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیری مسلمان 70 سال بلکہ اس سے بھی زائد عرصہ سے قربانیاں دے رہے ہیں آخر ان کی قربانیاں کب رنگ لائیں گی؟
عبدالرشید ترابی: آپ کی بات درست ہے کشمیریوں نے قربانی دینے کا حق ادا کر دیا ہے پاکستانی قوم نے بھی اپنے کشمیری بھائیوں کی پشتی بانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر پاکستان کی قیادت نے بہت سے قیمتی موقع ضائع کئے جس کی وجہ سے ہماری آزادی کی منزل دور ہوتی چلی گئی۔

سیاست پاکستان:مثلاً کون کون سے مواقع ؟

عبدالرشید ترابی: پہلا موقع تو وہ تھا جب 1947ءمیں جہاد اپنے عروج پر تھا مجاہدین سری نگر تک پہنچ چکے تھے مگر جنگ بندی قبول کر لی گئی۔ یہ قطعی غلط فیصلہ تھا اس وقت بھارت شدید دباﺅ میں تھا اور خود بھارتی وزیر اعظم درخواست لے کر اقوام متحدہ میں گئے تھے۔ پھر 1962ءمیں بھارت اور چین کی جنگ کے موقع پر ہمیں ایک تاریخی موقع ملا مگر ہم امریکہ اور برطانیہ کے جھانسہ میں آ گئے جنہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کو حل کرا دیں گے۔ پھر تیسرا موقع 1990ءسے 1995ءتک کا عرصہ تھا اس وقت بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں کوئی رٹ موجود نہیں تھی مگر اس بہت اچھے موقع کو بھی ضائع کر دیا گیا۔ 2000ءاور 2001 میں بھی عسکری جہاد کا سخت دباﺅ تھا جسے بھارتی چیف آف آرمی سٹاف وی پی ملک نے بھی خود تسلیم کیا اور پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کو مشورہ دیا کہ سید علی گیلانی اور سید صلاح الدین سے بات چیت کر کے مسئلہ حل کیا جائے۔بھارتی فوج کے اوسان اس وقت خطا ہو چکے تھے مگر عین اس وقت جنرل پرویز مشرف نے عالمی دباﺅ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور مجاہدین کی سپلائی لائن کاٹ دی گئی۔

سیاست پاکستان:پاکستان کی مختلف حکومتوں کی کشمیر پالیسی میں تسلسل دکھائی نہیں دیتا، آپ کی رائے کیا ہے ؟

عبدالرشید ترابی: پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ طویل المعیاد پالیسی تشکیل دینے کی بجائے کسی ایک واقعہ کے رد عمل پر مبنی وقتی پالیسی بنائی جاتی ہے اسی کے تحت وفود باہر جاتے ہیں اور اسی کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی حکمران تقریریں کرتے ہیں۔ پاکستان کی ہر حکومت یہی کرتی رہی ہے ان سب حکومتوں نے بے نظیر بھٹو کا ویژن سب سے بہتر تھا جنرل پرویز مشرف نے 11/9 سے پہلے اچھی کوشش کی مگر کوئی فوجی حکومت ہماری درست وکالت نہیں کر سکتی کیونکہ حکمران خود جب آمر ہو تو وہ خوداردیت کے جمہوری حق کی وکالت موثر طور پر نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کا تسلسل قائم رہے اور وہ اپنے مستقل اہداف متعین کر کے پالیسی تشکیل دیں۔

سیاست پاکستان:موجودہ حکومت کی پالیسی کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

عبدالرشید ترابی: مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کی تازہ لہر کے بعد موجودہ حکومت کی پالیسی قدر بہتر ہوئی ہے اس سے قائم رکھنے ار مزید بہتر اور جاندار بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں ابھی کئی کمیاں محسوس ہوتی ہیں بھارت کے وزیر اعظم مودی نے کل جماعتی کانفرنس منعقد کر کے اپنی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا ہے ضرورت ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم بھی آزاد کشمیر اور پاکستان کی تمام سیاسی، دینی جماعتوں کی قیادت کو مدعو کر کے مشاورت کریں۔ اور انہیں اعتماد میں بھی لے اور اس مشاورت کی روشنی میں موثر اور ٹھوس کشمیر پالیسی تشکیل دی جائے۔

سیاست پاکستان:زلزلہ سے کشمیر میں جو تباہی ہوئی تھی اور اس کے بعد تعمیر نو کا جو کام شروع کیا گیا تھا۔ وہ مکمل ہو گیا یا زلزلےکے اثرات ابھی باقی ہیں۔

عبدالرشید ترابی: ابھی بہت کام باقی ہے اب تک تو زلزلہ سے تباہ شدہ سکول بھی پوری طرح تعمیر نہیں کئے جا سکے ۔

سیاست پاکستان:پاکستانی قوم اور عالمی برادری نے تو بہت فراخ دلی سے امداد اور عطیات دیے تھے کیا وہ خورد برد ہو گئے یا کسی دوسرے کام میں استعمال کر لیے گئے؟

عبدالرشید ترابی: سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اپنے دور اقتدار میں ان عطیات کے 56 ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں منتقل کروا لیے جس کے باعث تعمیر نو کا کام ادھورا پڑا رہ گیا۔

سیاست پاکستان:اس پر کشمیری عوام نے رد عمل کا اظہار نہیں کیا؟
عبدالرشید ترابی: بہت رد عمل ہوا خود میں نے اور جماعت اسلامی خیبر کے قائد پروفیسر ابراہیم صاحب نے اس سلسلے میں عدالت عظمی سے رجوع کیا جہاں ہماری درخواست ابھی تک فیصلہ طلب ہے۔

سیاست پاکستان:آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن سے انتخابی اتحاد اور مفاہمت کی جماعت اسلامی خود کیا اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ آزادانہ ان انتخابات میں حصہ لے سکتی ؟
عبدالرشید ترابی: ہمارے پاس تمام حلقوں میں تعلیم یافتہ اور موثر امیدوار موجود تھے جن کی شہرت بھی اچھی تھی اور ذاتی طور پر وہ قابل اعتماد کردار کے مالک تھے تاہم حالات کا یہ تقاضا تھا کہ اسمبلی میں جماعت اسلامی کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ چنانچہ مسلم لیگ ن سے مفاہمت کے ذریعے ایک دوسرے کی حمایت اور باوقار تعاون کی راہ نکالی گئی ۔ دونوں جماعتوں کے مابین انتخابی معاہدے کے مطابق دو نشستوں پر مسلم لیگ نے جماعت اسلامی کی حمایت کی چھ نشستیں اوپن رکھی گئیں جب کہ باقی حلقوں میں جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن کی حمایت کی۔ معاہدہ کے مطابق دو مخصوص نشستیں جماعت اسلامی کو دینا بھی طے پایا چنانچہ انتخابات کے بعد ان نشستوں پر میرا اور ایک خاتون رکن کا انتخاب کیا گیا۔
سیاست پاکستان:اس انتخابی مفاہمت کی اساس کیا تھی ؟
عبدالرشید ترابی: جماعت اسلامی نے 2001ءکے انتخابات میں بھر پور حصہ لیا تھا اور اسے مجموعی طور پر 1 لاکھ ووٹ ملے تھے۔ جو کل انتخابی ٹرن آﺅٹ کا 8.5 فیصد تھے ۔ آج بھی ساری نشستوں پر امیدوار کھڑے کرتے تو ہمارے اس ووٹ بنک میں ضرور اضافہ سامنے آتا۔ تاہم ہم نے صورت حال کو دیکھتے ہوئے مفاہمت کی سیاست کو بہتر سمجھا ۔ نواز لیگ سے ہمارے معاہدے کی بنیاد آزاد کشمیر میں نظام کی اصلاح، میرٹ کی بالادستی، کرپشن اور نا انصافی کا خاتمہ، عادلانہ اسلامی فلاحی نظام کا قیام اور آزاد جموں و کشمیر کو حقیقی معنوں میں تحریک آزادی کا بیس کیمپ بنانا شامل ہے۔

سیاست پاکستان:سنا ہے کہ آپ کے اس انتخابی اتحاد پر کارکنوں نے تحفظات اور اضطراب کا اظہار کیا ہے؟
عبدالرشید ترابی: ہم نے جماعت اسلامی کی روایات کے مطابق تمام فیصلے مشاورت سے کئے ہیں اس لیے کسی بھی سطح پر کوئی اضطراب یا تحفظات موجود نہیں ہمارے کارکن اور قیادت اس فیصلے پر مطمئن اور یکسو ہیں۔

سیاست پاکستان:آزاد کشمیر میں آپ مسلم لیگ ن کے اتحادی ہیں مگر پاکستان میں جماعت اسلامی حکومت کے خلاف تحریک برپا کئے ہوئے ہے ؟
عبدالرشید ترابی: آزاد کشمیر میں پہلے مسلم لیگ کی حکومت نہیں تھی بلکہ مسلم لیگ اپوزیشن میں تھی اور ہم نے مل کر پیپلز پارٹی کی بدعنوان حکومت کے خلاف تحریک بھی چلائی تھی یوں بھی آزاد کشمیر کی مسلم لیگ کی قیادت اور یہاں کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی امانت و دیانت پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا اور وہ ایک سچے اور کھرے انسان کی شہرت رکھتے ہیں۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*