Main Menu

دورہ چگوٹھی اور کشمیر کی جدوجہد آزادی ڈائری:اشفاق حسین

دورہ چگوٹھی اور کشمیر کی جدوجہد آزادی

ڈائری:اشفاق حسین
پاکستان کے انہترویں69یوم آزادی کے موقع پر مظفرآباد آزاد کشمیر جانے کا اتفاق ہواویسے تو اپنے لڑک پن میں ایک فٹ بالر ہونے کے ناطے پاکستان اور پاکستان سے باہر گھومنے پھرنے کے کئی مواقع میسرآئے لیکن رواں ماہ جماعت اسلامی کے میڈیا سیل کی جانب سے ملنے والا تین روزہ تفریحی دورہ اپنی نوعیت کا منفرد اور یادگار سفررہا۔اگرچہ یہ دورہ میرے ذہن میں موجود اہداف حاصل نہ کرسکااس کے باوجود میں نے اپنے ذہن میں موجود کئی ایک سوالات کے جواب تلاش کرلیئے۔
میرا ہدف کیا تھا اور میرے ذہن میں موجود سوالات کے جوابات کیا تھے اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں پہلے آپ کو اس سفر کی روداد سناتے ہیں ۔ جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے بھارت کے یوم آزادی کو کشمیری عوام کے ساتھ مل کر یوم سیاہ منانے اور مقبوضہ کشمیر میں جولائی 2016 کے پہلے ہفتے سے کرفیواورپلٹ گن کے استعمال سے کشمیری عوام کو پہنچنے والے نقصان پر اظہارہمدردی اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی خاطر لاہور کی صحافی برادری کو چکوٹھی آزاد کشمیر جہاں سے مقبوضہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول صرف 3 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لے جانے کا فیصلہ کیا گیااور جماعت اسلامی کے مرکزمنصورہ سے چودہ اگست صبح 10 بجے روانگی کا اعلان کیا گیا ۔ میں محمود ملک صاحب کے حکم کے مطابق ساڑھے نو بجے منصورہ پہنچ گیا جہاں پاکستان کے یوم آزادی کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ سٹیج پر جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ موجود تھے اوروہ ادھر ادھر پھرنے والے کارکنوں کو پنڈال میں پڑی خالی کرسیوں پر بیٹھنے کی تلقین کررہے تھے ۔ تقریبا 10 بجے کے قریب عوام کا ایک ہجوم اپنے ہاتھوں میں کرسیاں تھامے پنڈال میں داخل ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ساراپنڈال جماعت اسلامی کے ورکروں سے کھچاکھچ بھر گیا ۔جس طرف سے ہجوم پنڈال میں داخل ہواتھا اسی طرف سے چند لمحموں کے بعد امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق جلوہ افروز ہوئے اور سبزہلالی پرچم کو منصورہ کی عمارت پر بلندکرتے ہوئے سٹیج کی طرف بڑھے گئے ۔ امیر جماعت اسلامی کاحاظرین سے خطاب تقریبا آدھے گھنٹے پرمحیط تھا جس میں انہوںنے حصول پاکستان سے تکمیل پاکستان تک کے اپنے منشور کا پرچارکیا ۔
منصورہ میں منعقدہ تقریب ختم ہوئی تو میڈیاکو ناشتے کے لیئے ضیافت خانے لے جایاگیا جہاں لاہور کے مشہور نان چھولے انڈے کے ساتھ صحافیوں کی بھوک مٹانے کے منتظر تھے ۔صحافیوں کی تواضع کے لیئے حلوہ پوری اور گرماگرم چائے بھی ٹیبل پر موجود تھی ۔ میں چونکہ گھر سے بیگم کے ہاتھ کے بنے پراٹھے اچارگوشت کے ساتھ تناول کرکے پہنچا تھا اس لیئے میں نے ناشتے میں رکھی نعمتوں سے مستفید نہ ہوسکا تاہم چائے کا ایک کپ آداب مہمان نوازی کا خیال کرتے ہوئے ضرور نوش فرمایا۔
ناشتے سے فراغت کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قیصرشریف حاحب نے چکوٹھی جانے کے لیئے اپنا رخت سفر باندھنے کا اشارہ دیا تو سب نے منصورہ میڈیا سیل میں پڑے اپنے سامان کو اٹھایا اور سفر کے لیئے منتخب ٹھنڈی کوسٹر میں اپنی من پسند سیٹ منتخب کرنے کے جدوجہد شروع کردی ۔ میں نے بھی اپنی بائیک منصورہ ہسپتال کی پارکنگ میں لگائی اور گاڑی میںجاکر بیٹھ گیا۔ گاڑی میں ڈرائیوراور اس کے معاون سمیت 18لوگ سوار تھے ۔ جماعت اسلامی میں عظمت کا مینار سمجھے جانے والے رہنمااورسیکرٹری اطلاعات امیر العظیم اس گاڑی میں پہلے سے موجود تھے اورکسی غیرملکی سیاسی رہنما کے جیل میں گزرے ایام بارے کتاب کا مطالعہ کررہے تھے ۔ انہوںنے چند لمحوں کے لیئے کتاب کو چھوڑا اور اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت کے مطابق سفر کے لیئے ایک امیر منتخب کرنے کی تجویز دی سب نے امیرالعظیم کو امیر سفر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن امیر العظیم صاحب نے یہ ہمافرنٹ سیٹ پر بیٹھے جماعت اسلامی میڈیا سیل کے راجہ صاحب کے سربیٹھا دیا۔
تقریبا گیارہ بجے کے قریب ہماری گاڑی منصور ہ سے نکلی ۔ ڈرائیور عبدارحمن اپنے کام میں ماہر اور کشمیرکے چپے چپے سے واقف تھا ۔ عادت بھی اچھی تھی اور طبیعت بھی جولی ۔ منصورہ سے نکلے اور موٹر وے پر چڑھنے سے پہلے گاڑی میں ایندھن ڈلوایااور پانی کی بوتلیں بھی ساتھ لے لیں ۔ اب گاڑی موٹر وے پر سکون سے چلنے لگی ڈرائیورسیٹ کے برابر امیر سفر راجہ صاحب براجمان تھے ان کے پیچھے ڈیلی دن کے ایڈیٹربیٹھے تھے ۔ ڈرائیورکے بالکل پیچھے کی سیٹ پر آج ٹی وی کے خاں صاحب اورانکے ساتھ سینئر صحافی قریشی صاحب تشریف فرما تھے ،قریشی صاحب کے پیچھے افضال ہاشمی اور ان کے ساتھ محترم حامد ریاض ڈوگر صاحب تشریف فرما تھے ۔ ڈوگر صاحب کے پیچھے امیرالعظیم صاحب اور ان کے ساتھ نیوٹی وی کے کاشف صاحب بیٹھے تھے ۔ کاشف صاحب کے ساتھ والی سنگل سیٹ پر ڈرائیور کا معاون بیٹھا تھا جبکہ ڈرائیور کے معاون کے پیچھے سچ ٹی وی کے رپورٹر میاں امتیاز اوران کے پیچھے جناب قیصر شریف صاحب تشریف فرما تھے ۔ اس لائن میں سب سے آخر میں کیپٹل ٹی وی کے ابھرتے ہوئے سپورٹس رپورٹرانس صاحب تشریف فرما تھے انس صاحب کے برابر والی سیٹ پر سپورٹس رپورٹر موسیٰ بلال موجود تھے ۔ موسیٰ وڑائچ کے آگے والی سیٹ پر فوٹو گرافر صاحب موجود تھے اوراس سے آگے والی سیٹ اور گاڑی کے درمیان میں بندہ ناچیز وقت ٹی وی کے بیٹ رپورٹر میاں آصف کے ساتھ موجود تھا ۔ دوران سفر جو لوگ ہسی مذاق کرتے رہے ان میں قیصر شریف ، میاں امتیاز ، کاشف ،افضال ہاشمی اور قریشی صاحب قابل ذکر ہیں باقی دوستوں کے اپنے اپنے مشغلے تھے کوئی موبائل فون پر مصروف رہا کوئی قدرت کے خوبصورت نظاروں میں گم رہااور کوئی اپنی نیند پوری کرتا رہا۔ موٹروے پر گاڑی دوڑتی چلی جارہی تھی کہ امیرالعظیم صاحب نے ڈرائیور کو کہیں نماز کے لیئے رکنے کی درخواست کی ڈرائیور نے گاڑی ایک پٹرول پمپ پر کھڑی کردی اور دوستوں نے پٹرول پمپ کے عقب میں بنی خوبصورت مسجد میں نماز ظہر اور عصر باجماعت ادا کی ۔ تھوڑی دیر کے وقفے سے گاڑی بھر دوڑنا شروع ہوگئی اور تقریبا پانچ بجے کے قریب گاڑی اسلام آباد میں مشہور مرغ پلاو بنانے والے ہوٹل کے پاس جاکررک گئی ۔ چودہ اگست کے رش کی وجہ سے کھانا دیر سے ملا لیکن جیسے ہی کھانا ختم ہواسب نے گاڑی کی طرف منہ کیا اور ڈرائیورنے گاڑی کو پھر بھگانا شروع کردیا۔ اس بار گاڑی میں بیٹھے اکثر لوگوں کے دل خراب ہوگئے ۔ افضال ہاشمی اور میاں آصف کی حالت زیادہ ہی خراب ہوئی لیکن ڈرائیور اپنی سواریاں کی پریشانی سے بے فکر ہوکر منزل کی طرف بڑھتا رہا اور رات ساڑھے گیارہ بجے ہم اس مقام پر پہنچ گئے جہاں ہمیں قیام و طعام کرنا تھا ۔ ہیون ان ہلزکا مطلب ہمیں وہاں جاکرمعلوم ہواکیونکہ ہمارے پہلے روز کے اختتام کے آخری دوکلومیٹر پورے دن کے سفر سے زیادہ خطرناک اوردلچسپ تھے ۔ ڈرائیورعبدارحمن نے گھومتی اور بل کھاتی سڑکوں پر اپنی مہارت اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی مدد سے گاڑی کو منزل مقصود تک پہنچایا کہ ہر کوئی دھنگ رہ گیا۔
ہیون ان ہلزکی انتظامیہ کی جانب سے پرجوش استقبال اور پرتکلف کھانا پیش کیا گیا جس کے بعد اگلے دن کاشیڈول بنایا گیا ۔ اس دوران ہماری ملاقات مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدین سے ہوئی تاہم ان کی باتیں یہاں بتانا مناسب نہیں۔ پندرہ اگست کی صبح آنکھ کھلی تو آملیٹ اورپراٹھے چائے کے ساتھ ٹیبل پر رکھے ہمارا انتظار کررہے تھے ۔ ناشتے کے بعد ہمیں پیرسائیں سرکار لے جایا گیا جہاں آزاد کشمیر کی نومنتخب حکومت کی جانب سے بھارتی مظالم کی مذمت کا پروگرام بنایا گیا تھا ۔ آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدراور امیر جماعت اسلامی کشمیر عبدالرشید ترابی نے بھارتی مظالم کے خلاف عالمی برادری کو جگانے کی کوشش کی اورجماعت اسلامی پاکستان کے امیرسینٹر سراج الحق نے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ۔
پیرسائیں سرکار سے مظاہرین ریلی کی شکل میں چگوٹھی کی طرف روانہ ہوئے جو وہاں سے تقریبا 60 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا ۔ چگوٹھی وہ مقام ہے جہاں تک عوام کو رسائی حاصل ہے اس کے آگے آرمی کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے اور وہاں سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر مقبوضہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول شروع ہوجاتی ہے۔ چگوٹھی پہنچ کر ہماری حیرت گم ہوگئی اور اس کی وجہ وہاں پر موجود لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو بھارتی مظالم کے خلاف نعرے بازی اور مظلوم کشمیری عوام کی دادرسی کے لیئے وہاں موجودتھا۔ یہ وہ لوگ تھے جوپورے پاکستان سے اپنے خرچے پر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیئے وہاں پہنچے تھے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی سابق اہلیہ ریحام خان بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیئے وہاں موجود تھیں۔

siasatpakistan (1) siasatpakistan (2) siasatpakistan (3)

ریلی سے فارغ ہوئے تو واپسی پر ڈرائیور نے ایک قدرتی آبشار کی طرف متوجہ کیا ۔ ریلی کی گرمی کو ٹھنڈا کرنے کے لیئے سب نے آبشار کی طرف رخ کیا اور خوب سلفیاں بنائیں۔ آبشار سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے نیلم پر بنے خوبصورت پل پر بھی چند دوستوں نے منظر کشی کی اور واپس ہیون ان ہلز پہنچ گئے ۔ ہیون ان ہلز کا راستہ اتناپرخطر تھا کہ ہمارے ایک دوست افضال ہاشمی بس سے اتر گئے کہ وہ یہ سفر پیدل پارکریں گے تاہم ہمارے میزبان نے ان کے لیئے ایک موٹر بائیک کا انتظام کیا اور انہیں ریسٹ ہاوس تک پہنچایا ۔ اوپر پہنچنے کے بعد جب انہیں یہ پتہ چلا کہ ابھی دوبارہ کھانا کھانے نیچے جانا پڑے گا تو انہوں نے اپنے خوف پر کھاناقربان کردیا لیکن نیچے نہیں اترے ۔ ایک گھنٹہ آرام کرنے کے بعد سب صحافیوں کو ہوٹل نیلم ویو لے جایا گیا جو جہاں جماعت اسلامی کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی کے ساتھ پرتکلف کھانے کی میز پر کشمیر کے موضوع پر ایک طویل نشست ہوئی ۔ انہوںنے بتایا کہ ہمارے حکمران ماضی میں غلطیاں نہ کرتے تو آج مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا۔
ہوٹل نیلم ویو میں ہمارے ملاقات سینئر صحافی اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہونے کے بعد منسٹر انفارمیشن بننے والے مشتاق مہناس سے ہوگئی جو اپنی فیملی کے ساتھ کھانا کھانے آئے تھے ۔ تمام صحافیوں کے ساتھ ان کا تعارف اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ان کی رائے معلوم کی گئی۔ یہاں بھی سلفیوں کا ایک دور چلا اور سب واپسی کے لیئے گاڑی میں جابیٹھے اور تقریبا پندرہ منٹ کے سفر کے بعد پہاڑوں میں جنت یعنی ہیون ان ہلز پہنچ گئے ۔ اگلے روزپروگرام تو مری اور نتھیاگلی میں سیروتفریح کا تھا لیکن ہمارے ایک ساتھی میاں آصف کی نجی مصروفیت کے باعث سیریہ پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔ واپسی پر راستے میں شنواری ہوٹل کی مشہور ڈش دنبہ کڑاہی کا مزہ لیالیکن اس سے پہلے جماعت اسلامی کے شعبہ الخدمت کے زیرانتظام مری کے قریب بننے والے ایک بڑے پراجیکٹ کا دورہ کیاجہاں تین سویتیم بچوں کی مفت رہائش ، تعلیم اور 50 بستر کے ہسپتال کا منصوبہ تیزی سے مکمل ہورہا ہے ۔منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد شنواری ہوٹل سے کھانا کھایا اور واپسی کے لیئے ڈرائیورصاحب نے جی ٹی روڈ منتخب کیا ۔ مری اور نتھیا گلی کی سیر جس مقصد کے لیئے چھوڑی تھی وہ مقصد تو پورا نہ ہوسکا تاہم ہم لوگ وقت پر گھر ضرور پہنچ گئے تھے ۔
اپنی تحریر کے آغاز میں میں نے میرے ذہن میں موجود دورہ کے حوالے سے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی اور اپنے ذہن میں موجود کئی ایک سوالات کے جواب تلاش کرنے کی بات کی تھی ۔ میرے اہداف میں وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ فارق حیدر،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق اور امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی کا سیاست پاکستان ڈاٹ کام کے لیئے خصوصی انٹرویوتھا جو میں کرنے میں ناکام رہا۔باقی رہی میرے ذہن میں موجود سوالات کے جوابات کی تو سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ کشمیر میں ایسی کیا بات ہے جوکشمیریوں اور پاکستانیوں کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہے وہ ہے ہمارا دین اسلام ۔میں نے اپنے کئی آزاد خیال صحافیوں سے سنا تھا کہ اگر پاکستان کشمیر پرانڈیا کے تسلط کو قبول کرکے بھارت سے جنگ بندی کا معاہدہ کرلے تو یہ گھاٹے کا سودہ نہیں ہوگا کیونکہ انڈیا پاکستان سے صحت ، تعلیم اور معیشت میں بہت آگے نکل چکا ہے لیکن میراذہن اس بات کو قبول کرنے کے لیئے ہرگزتیار نہیں تھا ۔ کشمیر میں کشمیریوںکا بھارت سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کا جنون دیکھا اور جب وہاں کے مقامی باشندوں سے سنا کہ ان کے باپ دادا نے اس آزادی کے لیئے اپنی جان قربان کی ہیںاور ان کی آئندہ نسلیں بھی اس آزادی کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گی تو مجھے میرے چند صحافی دوستوں کے اس سوال کا جواب بھی مل گیا کہ کیوں پاکستان کشمیر یوں کو تنہانہیں چھوڑ سکتا۔ کشمیر واقعی میں جنت نظیر اور پاکستان کی شہ رگ ہے جس پر بھارتی درندے مسلط ہیں ۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلواکر تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوانے کی سعی کرنی چاہئے ۔

Azad Kashmir (2) Azad Kashmir (4)
Azad Kashmir (6) Azad Kashmir (7) Azad Kashmir (9) Azad Kashmir (10) Azad Kashmir (11) Azad Kashmir (12)
Azad Kashmir (14) Azad Kashmir (17)






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*