Main Menu

کرپشن کا ناسور ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ

imran asghar logo color jpg

تحریر: محمد عمران اصغر

کرپشن کا ناسور ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ

کسی بھی ملک میں مسائل کی موجودگی دراصل حکمران طبقے کی غیر ذمہ داری، غفلت اور نا اہلی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ برسر اقتدار طبقہ دیانتدار ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرے کے دیگر طبقات میں بد عنوانی کا عنصر پروان چڑھ سکے۔ اس کے مقابلے میں حکمران بد دیانت اور عوام بد عنوانی کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے ہوں تو معاشرہ تباہی کے دہانے تک پہنچ جاتا ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا معاشرہ رشوت، سفارش، اقربا پروری، بے ایمانی اور بد دیانتی کے شکنجے میں جکڑا ہے۔ ایسے حالات میں حکمران ہوں یا صاحبان اختیار و اختیار، بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے باز نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ انسداد بد عنوانی پر عالمی سروے ہو یا ایشیائی ممالک کی درجہ بندی پاکستان کو ہمیشہ نچے نمبروں پر رکھا جاتا ہے۔ اس میدان میں ہماری حکومتوں کا عالم یہ ہے کہ بد عنوانی کو ختم کرنا تو دور کی بات اعلیٰ سے نچلی سطح تک سرکاری اہلکار و حکام کرپشن کی دلدل میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جس ملک اور معاشرے میں اس قسم کی انار کی چھینا جھپٹی اور سینہ زوری کا رواج ہو وہاں کرپشن کو اپنے پنجے گاڑنے میں بڑی سازگار فضا میسر آجاتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ کرپشان کا اُردو میں مفہوم بد عنوانی، بدکاری، بدعملی، بد اخلاقی اور بگاڑ کا ہے۔ عربی میں اس کا مفہوم لفظ فساد سے ممکن ہے۔ کرپشن سے معاشرے میں بد عملی، بد اخلاقی، بد عنوانی پھیلتی ہے جس سے معاشرے میں فساد پھیلتا ہے۔ قائداعظم نے 11 اگست 1947 کو فرمایا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور رشوت ہے اسمبلی کو اس کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔
موجودہ صورتحال میں ملک میں معاشی، سیاسی، انتخابی اور اخلاقی کرپشن کا ناسور قومی سلامتی کیلئے خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے۔ بے انتہا غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور بد امنی کی جڑ موجودہ کرپٹ سسٹم ہے جس کی وجہ سے بے انتہا معدنیات، بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال جفا کش اور محنتی قوم کے باوجود غریب، غریب تر اور امیر، امیر ہو رہا ہے۔ آئین پاکستان میں عام شہری کو عزت کی روٹی، تعلیم، علاج اور رہائش دینے کی ضمانت دی گئی ہے مگر کرپٹ حکومتوں نے ان بنیادی حقوق سے شہریوں کو محروم رکھا ہوا ہے۔
ورلڈ بینک اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں کرپشن عروج پر ہے، ہر سطح پر سیاسی بنیادوں پر تقرریاں کی گئیں ہیں اور اسٹیل مل، پی آئی اے ، واپڈا، ریلوے، پی ٹی سی ایل،نیشنل انشورنس کارپوریشن، ٹریڈنگ کارپوریشن، پبلک سیکٹر ارباب اختیار کی سیاسی، مداخلت اقرباءپروری اور نا اہل افراد کی تقرریوں کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے۔ قومی اداروں کی نجکاری نہ صرف مزدوروں کا قتل عام ہے بلکہ ملکی سا لمیت اور قومی وحدت کے بھی خلاف ہے۔ توانائی کا بد ترین بحران حکومتی نا اہلی کا گواہ ہے مزید ستم یہ کہ عوامی پر ظالمانہ ٹیکس عائد کرنے والی یہ حکومت نیٹو کو بغیر ٹیکس کے پٹرول و ڈیزل فراہم کر رہی ہے۔ نیز بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے 20 ہزار سے زیادہ پیداواری صنعتی یونٹ بند ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ملکی پیداوار میں کمی ہونے کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ کے آرڈر بر وقت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے برآمدات میں بھی کمی آگئی جو زرمبادلہ کا بہت بڑا خسارہ ہے۔ مزدور طبقے کے مسائل ڈیتھ گرانٹ، میرج گرانٹ، تعلیمی وظائف، پینشن سوالیہ نشان ہےں۔
قیام پاکستان کے چند برس بعد تک تو حکومتی سطح پر بدعنوانی کا رجحان نہیں دیکھا گیا تاہم جیسے جیسے وقت گزرا حکمرانوں میں بد دیانتی، بد عنوانی اور فرائض سے غفلت کا گویا ایک مقابلہ شروع ہو گیا۔ ہر آنے والے نے پہلی حکومت کو بد عنوان قرار دے کر اس کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا اور اس کی آڑ میں مالی بد عنوانی کا گندا کھیل شروع کر دیا۔احتساب کے اعلانات ہوئے، بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اس سلسلے میں احتسابی ادارے تک بنا دیئے گئے لیکن عملی طور پر حکومت اور اس کے کارندوں نے ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا۔ جج، جرنیل، سول افسران سمیت تقریباً سبھی نے اپنے اپنے حصے کا مال ہضم کیا۔بد عنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے اس طویل سلسلے کا نتیجہ یہ ہے کہ غیر جانب دار اداروں کی تحقیق کے مطابق اس وقت سوئس اور غیر ملکی بینکوں کے خفیہ کھاتوں میں کرپٹ پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر موجود ہیں۔ اقتدار، اختیار اور اثر و رسوخ کا اندھا استعمال کرنے والے اس بد دیانت طبقے نے اپنی کارگزاری سے نہ صرف ملک کو 170کھرب غیر ملکی قرضوں میں جکڑ ڈالا بلکہ قومی وسائل کو ہڑپ کر کے اربوں ڈالر سے زیادہ کے سرمائے کو ملک سے باہر لے گئے۔ دوسری طرف بد عنوانی اور بد دیانتی کا حال یہ ہے کہ ہمارے قومی ادارے بد ترین مالی بحران کا شکار ہیں۔ واپڈا، ریلوے، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل جیسے اداروں ہی کو دیکھا جائے تو یہ کئی سو ارب روپے کے مقروض ہیں جو دراصل بد عنوانی اور نا اہلی کا شاخسانہ ہے۔ نچلی سطح پر حالات یہ ہیں کہ کسی بھی محکمے کا کلرک، لائن مین، میٹر ریڈر حتیٰ کہ نائب قاصد تک عمومی طور پر اپنی اپنی ”حیثیت“ کے مطابق رشوت لینے سے باز نہیں رہتے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوچ راسخ ہو چکی ہے کہ سرکاری، نیم سرکاری یا نجی شعبے میں کوئی کام ایمانداری سے نہیں ہوتا۔ عام آدمی کسی بھی سرکاری کام کیلئے اہلیت کے بجائے رشوت اور سفارش کو ترجیح دیتا ہے۔ بد عنوانی کے عنصر کو قبول کرنے کی سوچ ہمارے ہاں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ ہر فرد رشوت دینے کو جائز خیال کر کے اس نقصان کو اپنے انداز میں اسی طریقے سے پورا کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ دکاندار ا گر واپڈا کے کلرک کو پیسے دیتا ہے تو وہ بجلی چوری، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے ذریعے کئی گنا زیادہ کی مار دھاڑ کر لیتا ہے۔ یہی حال سبزی فروش کا اور یہی کیفیت ٹرانسپورٹر کی ہے۔ اوپر سے نیچے تک ہر کوئی سمجھتا ہے کہ قانون، عدل، انصاف، عدالتیں اور پولیس سب کوکسی نہ کسی قیمت پر خریدا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاقانونیت، دہشت گردی، تشدد، راہزنی قتل و غارت گری، ڈکیتی اور اغوا جیسی وارداتیں کم ہونے کے بجائے تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
پاکستان میں اندر ونی و بیرونی قرضوں کا حجم 170 کھرب سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ افراط زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ بے روزگاری، غربت، معاشی بد حالی روز افزوں بڑھتی جار ہی ہے جس کی وجہ سے مائیں اپنے شیر خواروں کو بیچنے پر مجبور ہیں۔ خودکشی کے واقعات کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ غرض حکومت کے ہر شعبہ اور زندگی کے ہر میدان میں کرپشن، بد عنوانی میں بے تحاشا اضافہ ہی ہوا ہے۔ کرپشن کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کسی بھی شعبہ زندگی کو دیکھ لیں، وہاں عدل نظر نہیں آئے گا۔ نظام عدل و انصاف کے کمزور ہونے سے ہی فرقہ بندی ہے، دہشت گردی ہے، کرپشن ہے، جس کی وجہ سے غربت و بے روزگاری ہے اور ملک میں توانائی بحران ہے۔ اگر احتساب کا نظام، انصاف کا نظام درست کام کر رہا ہو تو پاکستان میں یقین کریں کوئی بحران پیدا نہ ہو۔وہی ملک ترقی کر سکتا ہے جہاں عدل و انصاف بکتا نہ ہو، ذمہ داروں کو کڑی سزا دی جائے، ہمارے ہاں عدل کیلئے مثال تو حضرت عمر فاروق کی دی جاتی ہے لیکن صرف مثال دی جاتی عمل سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
عدل و انصاف کے ذریعے ہی لوگوں کے درمیان حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے اور اپنے فرائض پورے نہ کرنے پر انہیں سزا دی جاتی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگوں کے درمیان انصاف کیا جا سکے۔ اسلام کے نظام انصاف میں تاریخوں کے دینے کا کوئی وجود نہیں ہے فیصلہ فوری طور پر کیا جاتا تھا۔ اسلام میں انصاف سہل الحصول اور قاضی، جج، وکیل و تھانہ کچہری جانبدار نہ ہو اس میں رشوت اقرباءپروری نہ ہو۔ یہ رشوت کا ناسور بھی انصاف و عدل کے نظام کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہی معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔ معاشرے کو ملک کو کامیابی سے چلانے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں قانون ہو اور اس قانون پر سختی سے عمل ہو۔ دنیا میں جتنے بھی عدالتی نظام ہیں ان میں کوئی نہ کوئی خامی تو ہے، مجرم کے بچ نکلنے کے راستے موجود ہیں لیکن جس نے اس مخلوق کو بنایا ہے اس کے خالق کے بنائے ہوئے نظام عدل میں تو کوئی خامی نہیں ہے۔ اسلامی نظام و عدل و امیر و غریب ، خاص و عام، شاہ گدا، قاضی اور بادشاہ، خلیفہ یا وزیراعظم و صدر کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ انصاف پر ہی دین و دنیا کی فلاح کا دارومدار ہے۔ بغیر عدل کے کسی بھی معاشرے کی ترقی، فلاح، کامیابی، ناممکن ہے۔ عدل یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات کے مطابق زندگی گزاریں۔
میں سمجھتا ہوں کہ وطن عزیز میں بد عنوانی کا زہر روز مرہ زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ قوم کی اجتماعی سوچ بد دیانتی کا شکار ہو چکی ہے۔ دوسرے الفاظ میں معاشرے کے ضمیر اور اجتماعی دانش میں کرپشن کا عنصر جگہ بنا چکا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ ایسے حالات میں جتنی بھی کوششیں کر لی جائیں بد عنوانی کو بد عنوانی کو اجتماعی سوچ میں انقلابی تبدیلی کے بغیر کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصدکیلئے تبدیلی کا آغاز عام آدمی سے نہیں برسر اقتدار طبقات سے ہونا چاہیے۔ ہمارے حکمران جب تک قانون کی حاکمیت کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے بد عنوانی کے خلاف اقدامات کو اپنی ذات اور اپنے اعزاءاقربا سے شروع نہیں کریں گے معاشرے کو اس ناسور سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اس کے ساتھ علم و آگہی، تعلیمی میدان میں اسلامی نظریات کی بنیاد پر ترقی، جمہوری اقدار کے فروغ، ذرائع ابلاغ، مذہبی مفکرین کی رہنمائی کو بنیاد بنا کر سماجی شعور کی تطہیر کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر بد عنوانی کا سونامی ہمارے بچے کھچے سماجی ڈھانچے کو بھی تباہ و برباد کر ڈالے گا۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*