Main Menu

ہومیوپیتھی میں بانجھ پن کا علاج ممکن ہے:ڈاکٹر رفیق احمد

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-6

انٹرویو : محمد قیصر چوہان

ہومیوپیتھی میں بانجھ پن کا علاج ممکن ہے

ہومیو پیتھی طریقہ علاج میں دماغی امراض، معدہ و جگر، شوگر، بواسیر، جوڑوں اور پٹھوں کے درد، بلڈ پریشر، گردے اور پتّے کی پتھری، ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا پن سمیت دیگر بیماریوں کا کامیاب علاج ممکن ہے

پاکستان کے نامور ہومیو پیتھک ڈاکٹر رفیق احمد کا ”سیاست پاکستان“ کو خصوصی انٹرویو

ڈاکٹر رفیق احمد کا شمار ملک کے نامور ہومیو پیتھک ڈاکٹرز میں ہوتا ہے۔ جو گزشتہ کئی برس سے ہومیو پیتھک طریقہ علاج سے منسلک ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک نے ان کے ہاتھ میں شفاءرکھی ہے۔ ڈاکٹر رفیق احمد شوگر، بلڈ پریشر، موٹاپا، ہیپاٹائٹس، گردے، مثانے، اور پتّے کی پتھری، ناک، کان اور گلے کے امراض، ناخنون، بالوں اور جلد کے امراض، بچوں کے جملہ امراض، عورتوں اور مردوں کے خصوصی امراض کا علاج کرنے میں ماہر ہیں۔ گزشتہ دنوں نمائندہ ”سیاست پاکستان“ نے پاکستان کے نامور ہومیو پیتھک ڈاکٹر رفیق احمد سے ایک نشست کا اہتمام کیا اس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-8

سوال: ڈاکٹررفیق صاحب !عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر بننا سب سے آسان کام ہے، چند کتابیں لیں، انہیں پڑھیں، امتحان دیں اور لیجئے آپ ڈاکٹر بن گئے اب جہاں جی چاہے کلینک کھول کر بیٹھ جائیں اس تاثر کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : ہومیوپیتھک کورس اتنا آسان نہیں جتنا لوگوں میں مشہور کر دیاگیا ہے کیونکہ ہومیو پیتھک کورس میں اناٹومی، فزیالوجی، پیتھالوجی، گائنا کالوجی، سائیکالوجی مضامین شامل ہیں۔ اگر یہ سبجیکٹسآسان ہیں تو پھر تو یہ بات درست ہے اور اگر یہ مشکل ترین سبجیکٹس ہیں تو پھر ہومیو پیتھک ڈاکٹر بننا آسان کیسے ہے۔
سوال: لوگ کہتے ہیں کہ ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں پیچیدہ امراض کا بغیر آپریشن علاج کیا جاتا ہے مگر ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ یہ طریقہ علاج بہت سست ہے اس میں کافی وقت لگتا ہے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : ہومیو پیتھک طریقہ علاج اتنا سست نہیں۔ ان کی ادویات زبان میں موجود Nerves کے ذریعے جسم میں اثر کرتی ہیں اور ادویات کا فوری رسپانس آتا ہے۔ البتہ کچھ Organic اور Chronic بیماریوں میں ان کا اثر دیر سے ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے طریقہ ہائے علاج میں بھی ادویات کا اثر دیر سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔
سوال: ہم اکثر سنتے ہیں کہ ہومیو پیتھک ڈاکٹرز دعوے کرتے ہیں کہ ان کی تیار کردہ دواﺅں کے استعمال سے کسی کا قد بڑھ جاتا ہے، کسی کا رنگ گورا ہو جاتا ہے ان دعووں میں کتنی صداقت ہے؟

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-14

ڈاکٹر رفیق احمد : قد صرف عمر کے ابتدائی حصے یعنی بچپن اور لڑکپن کی عمر میں ہی بڑھتا ہے جسے بڑھوتی کی عمر کہتے ہیں بلوغت کے کے بعد Mature age میں قد نہیں بڑھتا۔ اور کوئی دوا ایسی موجود نہیں جو Mature age میں قد بڑھائے۔ہاں ایک مرض موجود ہے جسے Acromegaly کہا جاتا ہے۔ اس میں قد بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور جسم بے ڈھنگا اعضاءٹیڑھے ہو جاتے ہیں اور جہاں تک گورے ہونے کا تعلق ہے تو Solar Radiation یا بیماری کے برے اثرات کی وجہ سے اگر رنگ خراب ہو جائے تو اس کی بحالی تو ممکن ہے۔ مگر پیدائشی کالے رنگ کو گورے رنگ میں تبدیل کرنا ممکن نہیں۔اور اگر کسی Externalیا Internal دوا کے استعمال سے ایسا کیا جائے تو اس کے بڑے برے اثرات فوری تو نہیں مگر کچھ سامنے آتے ہیں۔ پاکستان عوام کو جو گورے ہونے کا خبط سوار ہے مستقبل قریب میں اس کے بڑے ہی برے اثرات جلدی امراض کی صورت میں نکلیں گے۔
سوال: ہومیوپیتھک ڈاکٹر اکثر یہ ہدایت دیتے ہیں کہ دوا کے استعمال سے آدھے گھنٹے پہلے اور آدھے گھنٹے بعد کوئی چیز نہ کھائیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : دوا اور غذا کے درمیان وقفہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ ادویات lingual nerve کے ذریعے جسم میں داخل ہوتی ہیں اس لیے دوا کے استعمال سے پہلے منہ میں کسی غذا کا ذائقہ نہیں ہونا چاہیے اور دوا کے استعمال کے بعد بھی کچھ دیر تک منہ میں غذا کا ذائقہ نہ ہو تو دوائیں بہتر اثر دکھاتی ہیں۔
Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-9سوال: کیااس شعبے میں اسپشلائزیشن ہوتی ہے؟

ڈاکٹر رفیق احمد : یہ شعبہ بذات خود ایک اسپیشلائزیشن ہے بیرون ممالک اگر میڈیکل کی بنیادی تعلیم M.D. کے بعد اگر آپ اسپیشلائزیشن کی طرف آتے ہیں تو ہومیو پیتھی اسپیشلائزیشن کی لسٹ میں سے موجود ایک شعبہ ہے جسے. M.D کے بعد ہی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ہومیو پیتھک میں اسپیشلائزیشن کی طرف سفر شروع ہو چکا ہے جس کی ایک بہتری B.H.M.S کلاسز کا اجراءہے۔
سوال: بیرون ملک ہومیوپیتھک کا کیا لیول ہے؟

ڈاکٹر رفیق احمد : بیرون ملک لوگ ہومیو پیتھی کی طرف آتے ہیں اس لیے یہ شعبہ اسپیشلائزیشن کے انڈر آتا ہے اور اسپیشلسٹ ڈاکٹرز ہمیشہ کم ہوتے ہیں اور بہت کم لوگ جو یہ شعبہ اختیار کر تے ہیں ان کی بھاری فیسیں اکثر عوام Afford نہیں کرتے۔ بیرون ملک یہ شعبہ مہنگا ترین شعبہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔
سوال: ہومیو پیتھک دوائیں عام طور سے زبان پر ٹپکائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے مریضوں کو ان پر ٹرسٹ نہیں ہوتا وہ کہتے ہیں کہ چند قطرے ان کے مرض کو کیسے ٹھیک کریں گے؟

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-7
ڈاکٹر رفیق احمد : ہومیو پیتھک ادویات Stimulus کے طور پر کام کرتی ہیں اور Stimulus کا مادی ہونا اور زیادہ مقدار میں ہونا ضروری نہیں۔
سوال: کیا ہومیوپیتھک ادویہ کے آفٹرافیکٹس بھی ہوتے ہیں؟
ڈاکٹر رفیق احمد : تمام ادویات خواہ وہ کسی بھی شعبہ کی ہوں ان کے آفٹراایفیکٹس ضرور ہوتے ہیں۔ مگر ہومیو پیتھک ادویات کی یہ خوبی ہے کہ ان کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہوتے۔ اگر کوئی Misuse کرے تو کسی بھی چیز کا Misusage اچھا نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات ہمیشہ برے ہی ہوتے ہیں۔
سوال: بعض ہومیوپیتھک ڈاکٹرز نے اپنے گھروں میں یا دیگر جگہوں پر اپنی دوائیں تیار کرنے کے کارخانے کھول رکھیں ہیں آپ اس پر کیا تبصرہ کریں گے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : Standard Pharmacies کا قیام یقینا اچھی بات ہے مگر سمال سکیل پر اگر کوئی فرد اچھا کام کرتا ہے تو اسے بھی Refuse نہیں کیا جانا چاہیے اس کے اچھے اور معیاری کام کو Appreciate کرنا چاہیے۔اگر ہسٹری میں جائیں تو تمام شعبہ جات کے اندر افراد Manually ہی ادویات تیار کرتے تھے اور وہ ادویات موثر بھی ہوتی تھیں اگر کوئی اچھا شخص اچھی نیت کے ساتھ کوئی معیاری دوا بناتا ہے تو اُسے Reject نہیں کرنا چاہیے کہ یہ دوا مشین پر نہیں بنائی گئی یا ہاتھ سے کیوں بنائی ہے یا بہت بڑی فیکٹری میں کیوں نہیں بنائی گئی۔ اچھے افراد کی خدمات کو قومی ترقی کا حصہ بننا چاہےے ان پر بے جا تنقید درست نہیں۔

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-12

سوال: ہومیوپیتھک ادویہ زیادہ تر امپورٹڈ ہی کیوں استعمال کی جاتی ہیں؟
ڈاکٹر رفیق احمد : ہمارے ہاں ہر امپورٹڈ چیز قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے اس لیے ہومیو پیتھک امپورٹڈ ادویات عوام میں زیادہ مقبول ہیں۔
سوال: آپ لوگوں کو ایک نارمل ڈائٹ
پلان بتائیں گے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : من بھاتا کھائیں مگر Over eating سے بچیں۔ جو غذا بھی کھائیں اچھی طرح چبا کر کھائیں اور Physically exertion کے ذریعے اس کھائی گئی ہضم شدہ غذا کو Consume کریں تو مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ جب ہم High calory diet لیتے ہیں اور Physical exertنہیں کرتے تو وہ غذا ہمارے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ سادہ سے سادہ غذا کا کھانا صحت کے لیے بہت اچھا ہے اور پیدل چلنا انتہائی ضروری ہے۔
سوال: علاج بذریعہ خوراک کے بارے میں آپ کی کیاتھیوری ہے؟

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-11
ڈاکٹر رفیق احمد : غذا کے ذریعے علاج ایک اچھا طریقہ علاج ہے اس کی افادیت سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔
سوال: وہ نوجوان جو ہومیوپتھی کے شعبے میں آنے کے خواہشمند ہیں ان کو آپ کیا مشورہ اور کیا پیغام دیں گے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : وہ نوجوان جو ہومیو پیتھک کی طرف آنا چاہیں انہیں devoted ہو کر اس شعبے کی طرف آنا چاہیے اور فل ٹائم ہومیو پیتھک ہونا چاہیے۔ان کا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا اور جینا مرنا سب کچھ ہومیو پیتھک کے لیے وقف ہو تو ہومیو پیتھی انہیں بہت بلند مقام عطا کرے گی۔
سوال: اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
ڈاکٹر رفیق احمد : اپنے بارے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نیک نیتی اور محنت پر یقین رکھنے والا انسان ہوں حق پرست ہوں۔ اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہونا پسند کرتا ہوں۔ مجھے اپنے شعبے سے بے پناہ محبت ہے۔ اس کی ترویج اور ترقی کیلئے دن رات کوشش کرنا چاہتا ہوں۔ تنقید کو اپنی اصلاح کا باعث سمجھتا ہوں۔
سوال: آپ عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-1
ڈاکٹر رفیق احمد : میں بیوہ، یتیم اور معذور افراد کا علاج بالکل فری کرتا ہوں۔
سوال: ہومیو پیتھک ادویات کی آزمائش کا کیا طریقہ رائج ہے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : ہومیو پیتھک ادویات کی آزمائش کا کام ہومیو پیتھک ڈرگ پر وور سوسائٹی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ سوسائٹی رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو ہومیو پیتھی کی ترویج اور ترقی کیلئے وقف کرنے والے افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز پر مشتمل ڈرگ پروور سوسائٹی کے ان ممبران پر ہومیو پیتھی کی ادویات آزمائی جاتی ہے۔ آزمائش کے دوران ملنے والی تمام تر ذہنی و جسمانی علامات نوٹ کی جاتی ہےں۔ جو مریض علاج کیلئے کسی کلینک پر آئیں ان پر تجربات نہیں کئے جاتے اور نہ ہی بلی، چوہے، کتے اور دیگر جانوروں پرادویات کی آزمائش ہوتی ہے۔ بلکہ انسانوں پر جو ڈرگ پروور سوسائٹی کے ممبران ہوں ان پر ہومیو پیتھک ادویات کی آزمائش ہوتی ہے۔ اسی لیے ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں ذہنی علامات اور ذہنی کیفیات ذائقہ، نیند کی کیفیات اور خواب تک تمام کیفیات جو آزمائش کے دوران انسان ہی نوٹ کروا سکتا ہے ان پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور ان علامات کو دوا کے انتخاب میں ضرور مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ اگر ایک ایک کے دو دو نظر آئیں۔ اگر برے حادثات کے خواب آئیں اگر درد سر کے پچھلے حصہ سے شروع ہو کر آگے آنکھ تک لہر کی شکل میں آئے تو ان تمام تر کیفیات کو کوئی جانور نوٹ نہیں کروا سکتا ہے۔ بلکہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ خوبی رکھی ہے کہ وہ ان علامات کو محسوس کرسکتا ہے اور دوسرے کو بتا سکتا ہے کہ میرے ساتھ یہ بیت رہی ہے یا میرے اندر یہ علامت یا کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-4
سوال: مردوں میں سر کے بال جھڑنے کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی کیا وجوہات ہیں اور ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں کیا کوئی ایسی ادویات موجود ہیں جو اس مسئلے کا حل ہوں؟
ڈاکٹر رفیق احمد : مردوں اور عورتوں میں بال جھڑنے کی شرح میں بہت حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس کی بنیادی وجوہات میں غیر معیاری شیمپو کا استعمال، ناقص قسم کے صابن کا استعمال، سولر ریڈی ایشن (سورج کی نقصان دہ شعاعیں) تفکرات، ذہنی دباﺅ، ٹینشن، ڈپریشن، خون کی کمی،وٹامن ای کی کمی ، نیندکی کمی، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ بعض مرتبہ بیماری کی وجہ سے ہونے والی کمزوری سے بھی سر کے بال کمزور ہو کر گرنے لگتے ہیں۔ بالوں کی بہتر نشوونما کیلئے جہاں تک ہومیو پیتھک طریقہ علاج کا تعلق ہے تو عمر سے پہلے اگر بال سفید ہو جائیں یا عمر سے پہلے بال جھڑ جائیں تو ہو میو پیتھی طریقہ علاج میں بڑی نایاب قسم کی ادویات ہیں جن سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے اور بالوں کی افزائش اور صحت بہتر ہو سکتی ہے اور بال گھنے اور لمبے اور سیاہ ہو سکتے ہیں۔
سوال: پاکستان میں بانجھ پن کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے آپ کے نزدیک اس کی کیا وجوہات ہیں اور بانجھ پن کی بیماری کا ہومیو پیتھی علاج میں کامیابی کی شرح کتنی ہے؟

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-3

ڈاکٹر رفیق احمد : بانجھ پن کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ کزنز میرج بھی ہے دوسرا میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی کا نہ ہونا ، شادی کے شروع میں ہی ذہنی الجھاو لڑائی جھگڑا وغیرہ ، تیسرا مردوں میں جراثیم کا نہ ہونا یہ بہت کم ہونا ۔بعض مریض ایسے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جن کے بعدازاں ٹیسٹ نارمل ہونے کے باوجود بانجھ پن یعنی اولاد کی نعمت سے محروم ہیں ۔ یہ قدرت کا نظام ہے جسے ہم بدل نہیں سکتے ۔ عورتوں میں بانجھ پن کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں فلوپین کیوب کا بند ہونا ، حیض کا بہت زیادہ یا کم آنا ، لیکوریا، رحم کے اندر انڈوں کا نہ بننا ، یوٹرس میں کینسر کی رسولیوں کا پیدا ہونا، بچہ دانی کا اپنی جگہ سے سرک جانا ، بچہ دانی کا منہ چھوٹا یا سکڑجانا ، رحم کے اندر تیزابیت کا زیادہ ہونا،موٹاپا سمیت کئی ایسے مسائل ہیں جس کی وجہ سے اولاد کا نہ ہونا بانجھ پن کہلاتا ہے ۔میرے اپنے تجزیئے کے مطابق بانجھ پن کی شرح میں واقعی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگر شادی کے دو برس کے بعد پریگنینسی ایک دفعہ بھی نہ ہو تو اسے بانجھ بن قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی چند ایک وجوہات ہیں۔ مثلاً دیر سے شادی کرنا، شوگر، کن پیڑے اور بعض دواﺅں ےک برے اثرات شامل ہیں۔ بانجھ پن کے علاج کے حوالے سے ہومیو پیتھی بہت کامیاب طریقہ علاج ہے۔ جس کی کامیابی کی شرح ایلو پیتھک سے کہیں زیادہ ہے۔ میرے اپنے تجربے اور مشاہدے میں جو کیس آئے ہیں جن کا مجھے علاج کرنے کا موقع ملا ہے اللہ کی خاص مہربانی اور والدین، بزرگوں کی دعاﺅں کے طفیل مجھے 95فیصد کامیابی ملی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان ماﺅں کی گود اور اولاد کی نعمت سے بھر دی ہے۔ہومیو پیتھی طریقہ علاج سے بانجھ پن کا خاتمہ ممکن ہے ۔ میں نے بحیثیت مسلمان، دین اسلام، قرآن مجید اور حدیث کی روشنی میں ریسرچ کر کے علم حاصل کیا ہے۔ کئی خاندان مجھ سے استفادہ کر چکے ہیں۔ میں خاتون اور مرد دونوں کے مکمل ٹیسٹ کراتا ہوں اس کے بعد جو رپورٹس آتی ہیں اس پر میں تحقیق کرتا ہوں جس کے بعد میں بانجھ پن کا علاج شروع کرتا ہوں۔ میرا طریقہ علاج شریعت کے عین مطابق ہے۔ جن جوڑوں نے میری ہدایات پر عمل کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے صدقے ان کی جھولی خوشیوں سے بھر دی۔
سوال: موجودہ تیز رفتار دور میں اکثر لوگ ڈپریشن کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں ڈپریشن کی وجہ سے وہ کئی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیا ہومیو پیتھک میں ڈپریشن کا کامیاب علاج ممکن ہے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : ذہنی دباﺅ، اعصابی ہیجانی کیفیت، کاروباری اور ماحولیاتی الجھنوں، گھریلو پریشانیوں اور معاشرتی دباﺅ کی بناءپر نیند کا نہ آنا، جسمانی، ذہنی اور اعصابی تھکن، جنسی عدم بے رغبتی، بھوک کا غائب ہو جانا، معدے بھرے ہونے کا احساس، کھانے کی نالی میں جلن، سانس لینے پر سینے میں بوجھ، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی، ہر وقت نا معلوم خوف اور اندیشے کا احساس، سرکا بوجھل ہونا، گردن، پیٹھ اور کندھوں میں کبھی شدید اور کبھی خفیف درد کا احساس، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانا، ہر وقت تھکن، جسم کے ہر حصے میں دُکھن، معدہ میں اپھارہ، اور ریاح کا دباﺅ قبض، دستر خوان پر متلی کا احساس جیسے مسائل دیکھنے میں آتے ہیں۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں اس کا 100 فیصد کامیاب علاج کیا جاتا ہے۔
سوال: کیا شوگر کے مریض بھی ہومیو پیتھک طریقہ علاج سے فیض یاب ہو سکتے ہیں؟

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-10
ڈاکٹر رفیق احمد : ذیا بیطس نشاستہ دار اشیاءجن سے گلوکوز بنتا ہے کے عمل تحلیل کی خرابی کا نام ہے جو اکثر و بیشتر موروثی ہوتا ہے۔ ذیا بیطس کے مرض میں پیشاب اور خون میں شکر کی زیادتی ہو جاتی ہے، پیاس لگتی ہے، پیشاب کثرت سے آتا ہے اور جلد پر خارش ہوتی ہے، ہومیو پیتھک ادویات ان تمام زہریلی رکاوٹوں کو دور کرتی ہے۔ جو لبلبہ میں انسولین بننے کی راہ میں مائل ہوتی ہے۔ یہ ادویات انسولین پیدا کرنے والے عوامل کی اصلاح کرتی ہیں۔
سوال: معدہ اور جگر کی بیماریوں میں مبتلا مریض کیا ہومیو پیتھک علاج کے ذریعے مکمل شفاءحاصل کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر رفیق احمد : جگر کی کسی قسم کی بھی خرابی ہو، یرقان، جگر کے ورم اور جگر کی عضوی و عملی خرابیوں سے ہوتا ہے جو سخت جسمانی مشقت، ذہنی تناﺅ ناقص غذا، موروثی اثرات، ماحول کی آلودگی خوراک جزو بدن نہ ہونہ پا رہی ہو یا اس قسم کی دوسری وجوہات کی بناءپر بعض اوقات صحیح طور پر کام نہیں کرتے۔ جگر صفر (Bile) بناتا ہے۔ جو وائرس اور دوسرے جراثیموں کے پیدا کردہ زہر کو جسم سے باہر نکال سکتا ہے۔ صفرا پتّہ کی تھیلی میں جمع رہتا ہے اور خوراک کو چھوٹے چھوٹے سالموں میں بدل کر جزو بدن بننے میں مدد دیتا ہے۔ یرقان میں جگر کی خرابی کے باعث صفرا بجائے پتّے کی تھیلی میں جمع ہونے کے خون کے ساتھ پورے جسم میں دوڑنے لگتا ہے جگر کی خرابی کی وجہ سے جگر پر بوجھ، متلی، بھوک نہ لگنا، قبض، آنکھ کے سفید پردے کی زردی اس کے علاوہ پتّہ کی پتھریاں، سوزش اور درد وغیرہ کیلئے ہومیو پیتھک ادویات موثر اور کارآمد ہیں۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج سے مریض معدہ اور جگر کے امراض سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔
سوال: کیا ہومیو پیتھی طریقہ علاج میںدماغی امراض کا کامیاب علاج ممکن ہے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں دماغی امراض کا علاج بہت کامیابی سے کیا جاتا ہے۔ ہماری ادویات ذہنی دباﺅ، اعصابی ہیجانی کیفیت، کاروباری اور مالیات الجھنوں و دیگر گھریلو پریشانیوں اور معاشی دباﺅ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دماغی امراض کی وجہ سے نیند کا نہ آنا، جسمانی، ذہنی اور اعصابی تھکاوٹ دل کی دھڑکن کا احساس، دماغ کے خلیوں اور مرکزی اعصابی نظام پر اثر انداز ہو ک تمام جسمانی و اعصابی نظام کو باقاعدہ بناتی ہیں۔ شدید دماغی کمزوری و جسمانی کمزوری اور بے چینی کا کامیابی سے علاج کیا جاتا ہے۔ مرگی ایک مشہور عصبی مرض ہے جو دورہ کے ساتھ واقع ہوتا ہے۔ اس مرض میں مریض بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔ اس مرض کا ہومیو پیتھک میں 100فیصد کامیاب علاج کیا جاتا ہے۔ جس کا کسی دوسرے طریق طب علاج میں ممکن نہیںہے۔
سوال: یہ بتائیں کہ بواسیر کی بیماری کے اسباب کیا ہوتے ہیں اور کیا ہومیو پیتھک میں اس کا کامیاب علاج ممکن ہے؟

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-2
ڈاکٹر رفیق احمد : جدید طریق زندگی میں مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت حرکت کی کمی، قبض پیدا کرنے والی غذائیں، مبزرکی رگوں کا کمزور ہونا، حمل کا دباﺅ، اجابت کیلئے زور لگانا بواسیر کا باعث بنتے ہیں۔ دراصل بڑی آنت کے آخری حصہ کی وریدیں خون جمع ہو جانے کی وجہ سے پھول جاتی ہیں۔ ان پھولی ہوئی رگوں کے پھٹ جانے سے خون خارج ہونے لگتا ہے۔ اس سب علامات سے مکمل طور پر نجات صرف ہومیو پیتھک ادویات میں ہے۔ یہ ادویات جسمانی نظام کے ہر اس حصہ اور فعل کو درست کرتی ہےں جو بواسیر کا باعث بنتے ہیں۔
سوال: عرق انساءکے درد کا علاج بھی ہومیو پیتھی میں ممکن ہے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : عرق انساءکے درد کو شیاٹیکا کا درد بھی کہتے ہیں۔ شیاٹیکاکا درد کمر اور کولہے سے شروع ہو کر ایڑھی تک جاتا ہے اور مریض کی ایک یا دونوں ٹانگیں شدید کھچاﺅ کا شکار ہو جاتی ہیں اکثر اوقات ٹانگیں ٹھنڈی یا سُن ہو جاتی ہیں اور اکثر شیاٹیکا کے کھچاﺅ کی وجہ سے ایک ٹانگ چھوٹی ہو جاتی ہے اور مریض لنگڑانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ شیاٹیکا کی اصل وجہ ریڑھ کے مہروں کا دب جانا یا مہروں میں وقفہ کم ہو جانا اور Slip Disc شامل ہیں کبھی کبھار شیاٹیکا کمر اور کولہے تک ہی محدود رہتا ہے اکثر مریضوں میں Lv-4,Lv-5 کے دبنے کی وجہ سے شیاٹیکا کا درد پیدا ہوتا ہے جس کی وجوہات میں زیادہ وزن اٹھانا، جھٹکا لگنا، گرنا، کمر کا زیادہ زور لگانا، بیٹھنے یا سونے کی پوزیشن درست نہ ہونا (مثلاً چارپائی پر سونا وغیرہ) ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں ایسی ادویات موجود ہیں جو ریڑھ کی ہڈی کے دبے ہوئے مہروں کو واپس ان کی اصل جگہ پر لے آتی ہےں اور شیاٹیکا کا مریض انتہائی کم وقت میں مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے جبکہ ایلو پیتھک میں عموماً مہروں کا آپریشن تجویز کیا جاتا ہے جس کی کامیابی کا تناسب انتہائی کم ہے۔
سوال: پتّے اور گردے کی پتھری میں ایلو پیتھک ڈاکٹرز مریض کو آپریشن تجویز کرتے ہیں ہومیو پیتھی میں گردے اور پتّے کی پتھری کے مریضوں کے کامیاب علاج کا طریقہ کار کیا ہے؟

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-13
ڈاکٹر رفیق احمد : ایلو پیتھک طریقہ علاج میں گردے اور پتّے کی پتھری میں آپریشن تجویز کیا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس حل یہی ہے لیکن آپریشن کے بعد مریض کو جیسے ہی ہوش آتا ہے تو پتھری بننے کا عمل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ پتّے کی پتھری میں تو آپریشن کر کے مریض کا پتّہ ہی نکال دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہاضمے کا عمل ہمیشہ کیلئے ناکارہ ہو جاتا ہے اور میری سمجھ سے باہر ہے کہ ڈاکٹر کو چاہیے کہ اگر ایمرجنسی نہیں ہے تو بجائے آپریشن کے ذریعے اپنے پیسے بنانے کے، ہومیو پیتھک ادویات میں ان کا علاج موجود ہے جو ان کے علم میں ہوتا ہے کہ ایسی ادویات موجود ہیں تو کیوں نہ مریض کے ساتھ انصاف کیاجائے۔یہ حقیقت شاید ہی کسی سے چھپی ہوئی ہو کہ گردے اور پتّے کی پتھری کا ہومیو پیتھک میں 100 فیصد علاج بغیر آپریشن کے موجود ہے یہی وجہ ہے کہ عوام میں ہومیو پیتھک طریقہ علاج کو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال: وہ کون سی ایسی بیماریاں ہیں جن کا علاج ایلو پیتھی میں ممکن نہیں ہے بلکہ اس کا کامیاب علاج صرف ہومیو پیتھی طریقہ علاج میں ہی ممکن ہے؟
ڈاکٹر رفیق احمد : ہومیو ادویات موٹاپے کو فوری طور پر کم کرتی ہے اور ان لوگوں پر بھی اثر دکھاتی ہے جو طرح طرح کے تجربات کر کے اُکتا چکے ہیں، موٹاپے کے ساتھ ساتھ بے ڈول جسم کو اپنی مرضی کی Shapeدینے میں بھی کارگر ثابت ہوتی ہیں ایک مہینے میں 18-20 پاﺅنڈ تک وزن بآسانی کم کیا جا سکتا ہے۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج سے کسی قسم کی بھی معذوری (جسے بول نہ سکنا، چل نہ سکنا، دماغی پیچیدگیاں یا کسی بھی قسم کا فالج، مرگی وغیرہ) کا 100 فیصد علاج کیا جاتا ہے ہومیو پیتھک طریقہ علاج سے ہزاروں معذور بچے شفایاب ہو چکے ہیں ایلو پیتھک میں معذور بچوں کا کوئی علاج نہیں ہے یہ علاج صرف ہومیو پیتھی میں ہی ممکن ہے جیسا کہ دمہ، الرجی، معذوری، فالج، گلٹیوں، رسولیوں کا بغیر آپریشن علاج اور ڈپریشن وغیرہ ان سب کا اور ان کے علاوہ تمام مسائل کا ہومیو پیتھی میں 100 فیصد علاج کیا جاتا ہے جیسا کہ دمہ اور الرجی کیلئے مریض کو ساری زندگی دوائیوں کے سہارے ہی گزرنی پڑتی ہے جبکہ ہومیو پیتھی میں مکمل جڑ سے یہ مسائل ختم ہو جاتے ہیں اور مریض ایک صحت مند زندگی بسر کر سکتاہے۔ اس کے علاوہ شادی شدہ جوڑوں میں اولاد کا نہ ہونا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مسئلہ چاہے مرد میں ہو یا عورت میں دونوںکا کامیاب علاج موجود ہے مردانہ کمزوری، بانجھ پن ، (sperm) کا نہ ہونا یا کم ہونا، ان تمام مسائل کا مکمل علاج ممکن ہے۔ عورت میں بانجھ پن، رسولیوں کا ہونا، ماہواری کے مسائل ماہواری کا درد کے ساتھ آنا، وقت بہ وقت ماہواری کا نہ ہونا، ان تمام مسائل کا علاج ہومیو پیتھک میں ممکن ہے۔ علاوہ ازیں ہومیو پیتھک واحد طریقہ علاج ہے جو پاکستان سمیت دُنیا بھر میں جوڑوں اور پٹھوں کے دردوں کے عارضے میں مبتلا افراد کیلئے باعث رحمت ثابت ہوا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض بھی ہومیو پیتھی طریقہ علاج کے ذریعے صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لمبے عرصے بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد انسانی جسم کی قوت مدافعت بہت کم ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے معمولی کام کرنے پر بھی جسمانی تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں زیادہ محنت کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ قوت مدافعت کے کم ہونے سے بیماریاں جسم میں جلدی حملہ کرتی ہیں۔ ہومیو پیتھک ادویات قوت مدافعت کو بحال کرتی ہیں اور جلد کو خوش نما بناتی ہیں۔ اچھی صحت آپ کے چہرے سے نمایاں نظر آئے گی۔

Homeopathy Dr Rafiq Ahmad.pic-Phti






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*