Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

پاک فوج کی گاڑی پر حملے کی مذمت پر بلاول اور حکومتی ارکان میں لفظی جنگ

شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی گاڑی پر حملے کی مذمت کے معاملے پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور حکومتی ارکان کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوگئی۔

بلاول بھٹوزرداری نے شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی گاڑی پرحملے کی مذمت کی اور کہا کہ ‘آج پھر ایک جوان وطن پر قربان ہو گیا۔ دھرتی پر جان قربان کرنے والے جوان ہمارے ہیرو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔

بلاول کی مذمت پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ‘بلاول کی جانب سے نامعلوم حملہ آور کی مذمت دوغلی سیاست ہے۔ بلاول بھٹو نے چیک پوسٹ پر حملے پرمحسن داوڑ کی حمایت کی تھی وہ آج شہدا کے خون پر سیاست نہ کریں’۔

بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر فواد چوہدری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘جب تمہارا لیڈر جب دہشت گردوں کو بھائی کہتا تھا تو میں اپنے فوج پرحملے کی مذمت کررہا ہوتا تھا’۔

بلاول نے کہا کہ ‘میں آج بھی اپنے فوجیوں پر دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتا ہوں، اسی کو تسلسل کہتے ہیں جس کی آپ کو سمجھ نہیں آتی، محسن داوڑ اور علی وزیر ایم این ایز ہیں دہشت گرد نہیں، اسپیکر قومی اسمبلی کو قواعد پر عمل درآمد کرنے کا کہہ رہا ہوں’۔

بلاول اور فواد چوہدری کے درمیان ہونے والی اس لفظی جنگ میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان بھی کود پڑیں۔

اپنے بیان میں فردوس عاشق نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا دوہرا معیار ہے، بلاول بھٹو زرداری کی شہیدوں کے خون پر سیاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول نے خر کمڑ چیک پوسٹ پر محسن داوڑ کے حملے کو مسترد کردیا اور بویا میں آج دہشت گرد حملے کی مذمت کردی، راؤ انوار کو بہادر بچہ اور محسن داوڑ کے پرو ڈکشن آرڈر پر اصرار ہے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*