Warning: Invalid argument supplied for foreach() in /customers/5/9/3/siasatpakistan.com/httpd.www/wp-content/themes/newspress-extend/function/imp.php on line 26
Main Menu

سندھ اسمبلی سے نیا پولیس ایکٹ 2002منظور

سندھ اسمبلی میں نیا پولیس ایکٹ دوہزار دو منظورکرلیا گیا، نئے ایکٹ کے تحت انگریزوں کا پولیس آئین ختم ہوجائیگا، آئی جی ۔ اے آئی جی ۔ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کی تعیناتی کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا۔

اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ کی جانب سے پیش کردہ نیا پولیس ایکٹ 2002 کے بل  کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو اپوزیشن اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کرگئی، تاہم بل پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے خوب ہنگامہ کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ ڈالی۔

مکیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد بل پیش کیا اس کے باوجود وہ بائیکاٹ کرگئی یہ لوگ اصل میں بھاگنا چاہتے ہیں۔

پولیس کے نئے قانون کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں ایک بار پھر گولہ باری شروع ہوگئی، مشیراطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ پولیس کو سندھ حکومت کے ماتحت بنانے کاتاثر غلط ہے، یہ قانون پولیس کوبااختیاراورمضبوط بناتاہے ۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ مرضی سے تعیناتیاں کرکےالیکشن میں پھردھاندلی کی جائے گی، یہ پولیس ایکٹ عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہے، پولیس ایکٹ میں ہماری تجاویز شامل نہیں کی گئیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہر ادارہ حکومت کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، پولیس ایکٹ میں اپوزیشن کی تجویز کو شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ نئے قانون کے تحت آئی جی سندھ سے ایک بار پھر اپنے ماتحت آفیسر کی تبدیلی یا تعیناتی کا اختیار واپس لے لیا گیا، پولیس کے پاس صرف سپاہی کی بھرتی کرنے کا اختیار ہوگا ۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*